عدالت نے پنجاب میں سینیٹ نشست پر انتخاب کو پٹیشن کے حتمی فیصلے سے مشروط کر دیا
لاہور ہائیکوٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں سینیٹ کی خالی نشست پر ہونے والے انتخاب کو پٹیشن کے حتمی فیصلے سے مشروط قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹرمسعود صادق 2 سال کیلئے ایشیا پیسیفک پیڈیاٹرک کارڈیک سوسائٹی کے صدر منتخب
عدالتی حکم
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے اعجاز چوہدری کی درخواست پر 2 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ 15 روز میں الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین اپنے تحریری جوابات جمع کرائیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا مذاکرات نہ ہونے کی صورت میں سول نافرمانی کی تحریک کا عندیہ
درخواست گزار کی وضاحت
درخواست گزار اعجاز چودھری نے سینیٹ کے انتخاب کو رکوانے کیلئے عدالت سے رجوع کیا تھا، ان کے وکلا بیرسٹر تیمور ملک اور رانا مدثر عمر نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن نے انہیں 28 جولائی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا تھا لیکن چیئرمین سینیٹ کی جانب سے ڈی نوٹیفائی کرنے کی درخواست ارسال نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر پر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے وعدہ پورا کریں گے، بلاول بھٹو
پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ
مزید کہا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ شبلی فراز اور عمر ایوب کی درخواست پر پہلے ہی سینیٹ انتخابات روکنے کا حکم دے چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک سال، کئی ریکارڈ: چیف منسٹر ٹریکٹر پروگرام کے تحت 10ہزار ٹریکٹر کاشتکاروں کو مل گئے، سکیم کا تیسرا فیز جنوری میں شروع ہوگا
سیلابی صورتحال کا اثر
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ ملک میں سیلابی صورتحال کے باعث الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات روک دیئے ہیں لیکن سینیٹ کے انتخاب کی پولنگ بدستور جاری رکھی گئی ہے جو غیر منصفانہ ہے۔
عدالت سے استدعا
رہنما پی ٹی آئی اعجاز چودھری نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی نشست پر انتخابی عمل کو روکا جائے。








