قطر کو اسرائیلی حملے کے بارے میں خبردار کردیا تھا ، وائٹ ہاؤس
وائٹ ہاؤس کی جانب سے قطر کو خبردار کیا گیا
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ کے صدارتی محل وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ قطر کو اسرائیلی حملے کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی آئی خان میں فائرنگ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا رشتہ دار جاں بحق
ٹرمپ انتظامیہ کی اطلاع
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی فوج نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیل حماس پر حملہ کر رہا ہے جو ’’بدقسمتی سے دوحہ، قطر کے دارالحکومت کے ایک علاقے میں موجود تھی‘‘۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور بی آر ٹی: کرایوں میں اضافے کا حتمی فیصلہ، مالی خسارہ برقرار
قطر کی اہمیت اور سلامتی
انہوں نے کہا ’’قطر جیسے خودمختار ملک، جو امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور ہمارے ساتھ امن قائم کرنے کی کوششوں میں سخت محنت اور بہادری کے ساتھ خطرات مول لے رہا ہے، پر یکطرفہ بمباری اسرائیل یا امریکہ کے مقاصد کو آگے نہیں بڑھاتی۔ تاہم حماس کا خاتمہ، جو غزہ کے عوام کی بدحالی سے فائدہ اٹھا رہی ہے، ایک قابلِ قدر مقصد ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی سے 27 ویں آئینی ترمیم آج منظور ہونے کا قوی امکان
خصوصی ایلچی کی ہدایت
لیویٹ نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ’’فوراً خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کو ہدایت دی کہ قطر کو اس حملے کے بارے میں آگاہ کریں‘‘۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستانی سفارتکار نے بھارت کو آئینہ دکھا دیا
امن کے مواقع کے بارے میں صدر ٹرمپ کا نقطہ نظر
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس حملے کو ’’امن کے موقع‘‘ کے طور پر دیکھتے ہیں، حالانکہ اس پر وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی ہے اور قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ یہ حملہ غزہ مذاکراتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس حملے کے بعد دونوں رہنماؤں نے بات کی۔
یہ بھی پڑھیں: محترمہ بینظیر بھٹو کی اٹھارویں برسیِ دبئی میں منائی گئی
وزیراعظم کی امن کی خواہش
لیویٹ نے کہا ’’وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ وہ امن چاہتے ہیں، اور جلد چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا یقین ہے کہ یہ بدقسمت واقعہ امن کے ایک موقع کے طور پر کام کر سکتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: عظمتِ رفتہ کا چراغ، ممتاز راٹھور اور فیصل راٹھور کا منفرد مقام
اسرائیل کے بارے میں نتائج کی قیاس آرائیاں
جب ان سے پوچھا گیا تو لیویٹ نے اس پر کچھ نہیں کہا کہ آیا اسرائیل یا اس کے وزیراعظم کے لیے کوئی نتائج ہوں گے یا نہیں، اور نہ ہی یہ بتایا کہ صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ناراض ہیں یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے وفاق میں صحت سہولت کارڈ کو مستقل کرنے کے لیے کمیٹی بنا دی۔
قطر کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے قطر کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ٹرمپ نے قطری حکام کو یقین دلایا ہے کہ ایسے حملے دوبارہ نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامی نظریاتی کونسل نے کم سنی کی شادی کے امتناع کا بل مسترد کردیا
صدر کی جانب سے شکریہ ادا کرنا
انہوں نے کہا ’’صدر قطر کو امریکہ کا مضبوط اتحادی اور دوست سمجھتے ہیں اور اس حملے کی جگہ کے بارے میں وہ خود کو بہت برا محسوس کرتے ہیں۔‘‘
قطر کے امیر اور وزیراعظم سے بات چیت
انہوں نے مزید کہا ’’صدر نے قطر کے امیر اور وزیراعظم سے بھی بات کی اور ان کا ہمارے ملک کی حمایت اور دوستی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے انہیں یقین دلایا کہ ان کی سرزمین پر ایسا واقعہ دوبارہ پیش نہیں آئے گا۔‘‘








