پی ٹی اے نے ٹیلی کام ڈیٹا لیک کے حوالے سے وضاحت جاری کر دی
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی وضاحت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بڑے پیمانے پر ٹیلی کام ڈیٹا لیک کے حوالے سے وضاحت جاری کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 10: بابراعظم کو آؤٹ کرنے کے بعد محمد عامر کے جشن کا انداز وائرل
صارفین کا ریکارڈ کون رکھتا ہے؟
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پی ٹی اے نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ صارفین کا ریکارڈ اتھارٹی کے پاس موجود نہیں ہوتا، بلکہ اس کی ذمہ داری لائسنس یافتہ ٹیلی کام آپریٹرز پر عائد ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شیخوپورہ: معذور بھائی کے سامنے بہن کی زیادتی کے بعد قتل
ڈیٹا سیٹس کا جائزہ
پی ٹی اے کے مطابق ابتدائی جائزے میں سامنے آنے والے ڈیٹا سیٹس میں خاندانی تفصیلات، سفری ریکارڈ، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور قومی شناختی کارڈ کی نقول شامل ہیں، تاہم یہ معلومات لائسنس یافتہ آپریٹرز کے سسٹمز سے نہیں بلکہ مختلف بیرونی ذرائع سے جمع کی گئی لگتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے 48 لاکھ سے زائد درخت لگانے کا فیصلہ
پی ٹی اے کی کارروائیاں
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے کہا کہ ادارے کے آڈٹ میں بھی کسی قسم کی خلاف ورزی یا بریک سامنے نہیں آئی، ادارے نے غیر قانونی مواد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 1,372 ویب سائٹس، ایپس اور سوشل میڈیا صفحات بلاک کر دئے ہیں، جو ذاتی معلومات کی خرید و فروخت میں ملوث تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے دہشتگردی پر بات ہوگی اور جلد دنیا دیکھے گی کہ کئی اہم چیزیں رونما ہوں گی، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر
انکوائری کمیٹی کا قیام
وزارت داخلہ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر شواہد اکٹھے کرے گی اور قانونی کارروائی کو یقینی بنائے گی، یہ کمیٹی سائبر کرائم یونٹس اور ریگولیٹرز کے ساتھ مل کر ذمہ داروں کا سراغ لگائے گی اور مستقبل کے لیے بھی حفاظتی اقدامات تجویز کرے گی۔
شہریوں کے لیے مشورے
پی ٹی اے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ مشکوک ویب سائٹس اور پیغامات کو فوری طور پر رپورٹ کریں اور اپنے اکاؤنٹس و ڈیوائسز کو غیر معمولی سرگرمیوں کے لیے چیک کرتے رہیں۔








