ملک بھر میں بجلی کے میٹرز تبدیل کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت کا نیا منصوبہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے ملک بھر میں تھری فیز میٹرز کو جدید اے ایم آئی سمارٹ میٹرز سے تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک کی جانب سے کرپٹو کرنسی پر پابندی ابھی بھی برقرار ہے، سیکرٹری خزانہ
بجلی چوری کی روک تھام
نجی ٹی وی چینل ’’ہم نیوز‘‘ کے مطابق وزارت توانائی نے بجلی چوری پر قابو پانے اور زائد بلنگ کو روکنے کے لیے یہ اقدام کیا ہے۔ یہ منصوبہ مرحلہ وار شروع کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کچھ لوگ خود لذتی اور آن لائن سیکس کے ذریعے مشکل جذبات سے چھٹکارا کیوں حاصل کرتے ہیں؟
پہلا مرحلہ
حکام نے کہا کہ ابتدائی طور پر بجلی کے 3 لاکھ 50 ہزار میٹرز تبدیل کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کی تکمیل کی ڈیڈ لائن دسمبر 2026 رکھی گئی ہے، جس کے بعد پورے ملک میں سمارٹ میٹرز کا استعمال لازمی ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کی ایجوکیشن ریفارمز کی تحسین دوسرے صوبے بھی کرنے پر مجبور ہیں: رانا سکندر حیات
باضابطہ ہدایات جاری
انہوں نے کہا کہ میٹرز کی تبدیلی کے حوالے سے تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ائیرلائنز میں بحران، نائب صدر کا طیارہ بھی تاخیر کا شکار
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کی شمولیت
ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) 3 لاکھ 50 ہزار میٹرز تبدیل کرے گی، اور یہ تنصیب باضابطہ میٹر ریپلیسمنٹ آرڈر کے تحت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سندس فاؤنڈیشن کے وفد کی اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے وائس چیئرپرسن بیرسٹر امجد ملک سے ملاقات
سمارٹ میٹرز کے فوائد
حکام کا کہنا ہے کہ سمارٹ میٹرز کے استعمال سے بجلی کے استعمال کی درست مانیٹرنگ اور بلنگ ممکن ہو سکے گی، اور اس سے بجلی چوری میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
اخراجات کا تخمینہ
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کو بڑے پیمانے پر تنصیب کے باعث اربوں روپے کے اخراجات برداشت کرنے ہوں گے۔








