پاکستان کے کم عمر ولاگر محمد شیراز نے سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدنی سے اپنے گاؤں کے اسکول کی تقدیر بدل دی
محمد شیراز کی کامیابی کی کہانی
سکردو(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے سب سے کم عمر ولاگر محمد شیراز نے سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدنی کو نیک مقصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے اپنے گاؤں کے اسکول کی تقدیر بدل دی۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا بھارتی حمایت یافتہ 30خوارج کو جہنم واصل کرنے پر فورسز کو خراج تحسین
ثقافت اور شہرت
گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو کے خوبصورت علاقے سے تعلق رکھنے والے محمد شیراز نے یوٹیوب پر اپنی روزمرہ زندگی اور علاقے کی خوبصورت ثقافت دنیا کے سامنے پیش کر کے بہت کم عرصے میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ شیراز کے ولاگز ہر عمر کے افراد شوق سے دیکھتے ہیں اور ان کی معصومانہ گفتگو سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر یاسمین راشد سے رہائی کے بدلے کیا مطالبہ کیا گیا؟ صنم جاوید کا سنسنی خیز انکشاف
اسکول کی بہتری کا اقدام
حال ہی میں شیراز نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے سوشل میڈیا اور ولاگنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی کو گاؤں کے ایک اسکول کی بہتری کے لیے استعمال کیا۔ ویڈیو میں سب سے پہلے انہوں نے اسکول کی خستہ حالت دکھائی، جہاں بچوں کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں نہیں تھیں، کلاس رومز ناقص تھے اور بچوں کے کپڑوں کی حالت بھی بہتر نہیں تھی۔ بعد میں وہی اسکول ایک جدید عمارت میں تبدیل ہو چکا تھا، جس میں جدید کلاس رومز، کھیل کا میدان اور جھولے بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سیلاب سے ہونیوالے نقصانات کے حوالے سے تازہ رپورٹ سامنے آگئی
سوشل میڈیا کا اثر
ویڈیو کے کیپشن میں شیراز نے لکھا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ انہیں سوشل میڈیا سے کیا ملا، تو انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم نے گاؤں کے خستہ حال اسکول کو جدید اسکول میں تبدیل کر دیا۔
مشورہ نوجوانوں کے لئے
شیراز نے ویڈیو میں مزید کہا کہ وہ میڈیا پر کام کرنے والے تمام لوگوں کو یہی مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ اگر سچے دل سے کام کریں تو کسی ایک شہر یا گاؤں کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور کامیابی کے بعد دوسروں کے کام بھی آ سکتے ہیں۔




