نیپال میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران جیلوں سے 13 ہزار 500 سے زائد قیدی فرار
نیپال میں قیدیوں کی بڑی تعداد کی فراری
کھٹمنڈو (ڈیلی پاکستان آن لائن) نیپال میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ملک بھر کی جیلوں سے 13 ہزار 500 سے زائد قیدی فرار ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: لینڈ مارک ڈویلپرز نے 13 کامیاب پراجیکٹس اور 500 یونٹس کی ڈلیوری کے بعد The Oasis Grand 14 لانچ کر دیا، 25 دسمبر سے پہلے پری لانچ آفر
پولیس کی ہلاکتیں
نیپالی پولیس کے ترجمان بنود گھمائرے نے اے ایف پی کو بتایا کہ "منگل کے روز تین پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 13 ہزار 500 سے زیادہ قیدی مختلف جیلوں سے فرار ہوگئے"۔
یہ بھی پڑھیں: اردن کے شاہ عبداللہ دوم 2روزہ دورے پر کل پاکستان پہنچیں گے
سیکیورٹی کی صورتحال
بدھ کے روز دارالحکومت کھٹمنڈو کی سڑکوں پر فوجی دستے تعینات کیے گئے تاکہ امن و امان بحال کیا جا سکے۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ کو آگ لگا دی تھی اور وزیرِاعظم کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا تھا۔ یہ گزشتہ دو دہائیوں میں ملک کو درپیش بدترین پرتشدد واقعات قرار دیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: حمزہ علی عباسی کی بہن ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی عبوری ضمانت بحال
مظاہروں کی ابتدا
مظاہرے پیر کو کھٹمنڈو میں سوشل میڈیا پر پابندی اور بدعنوانی کے خلاف شروع ہوئے تھے، تاہم حکومتی کریک ڈاؤن میں 25 افراد کی ہلاکت کے بعد احتجاج ملک بھر میں شدت اختیار کر گیا اور سرکاری عمارتوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔
بدامنی کی بڑھتی ہوئی صورت حال
ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بدامنی نے سب کو حیران کر دیا ہے، جبکہ نیپالی فوج نے متنبہ کیا ہے کہ ایسی سرگرمیوں سے ملک عدم استحکام اور شدید انتشار کا شکار ہوسکتا ہے۔








