ٹرمپ کا یوٹرن: بھارت سے تجارتی مذاکرات کا اعلان
امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی مذاکرات کا آغاز
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی رکاوٹیں ختم کرنے کے لیے مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور روس کے درمیان آخری جوہری معاہدہ ختم ہو گیا
ٹرمپ کا وزیراعظم مودی کی طرف دوستانہ رویہ
گزشتہ دنوں ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر کئی بار تنقید کرنے کے بعد اچانک انہیں اپنا دوست قرار دیا تھا اور اب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی تصدیق بھی کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں سندس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام تھیلیسیمیا پر سیمینار اور آگاہی واک، شادی سے قبل اسکریننگ لازمی قرار دینے پر زور
ٹرمپ کی انسٹاگرام پر وضاحت
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر بیان میں کہا کہ وہ وزیراعظم مودی سے آنے والے ہفتوں میں گفتگو کے منتظر ہیں اور یقین ہے کہ امریکا اور بھارت کے لیے کامیاب نتیجہ حاصل کرنا مشکل نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کی رنگارنگ ڈوڈل کے ساتھ نئے سال کی مبارکباد
مودی کا جواب
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی بات چیت کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور بھارت قریبی دوست اور فطری شراکت دار ہیں، اور مذاکرات تجارتی شراکت داری کے وسیع امکانات کی راہ ہموار کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: یو اے ای پاک میڈیا اور یو کے میڈیا کرکٹ ٹیم کے درمیان کرکٹ میچ 29 جنوری 2026 کو عجمان میں ہو گا
معاشی مواقع کی تلاش
مودی نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کی ٹیمیں مذاکرات کو جلد مکمل کرنے پر کام کر رہی ہیں تاکہ عوام کے روشن مستقبل اور خوشحالی کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے باضابطہ طور پر ملک کی عبوری صدر کے عہدے کا حلف اٹھالیا
تعلقات میں سردمہری
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں امریکا اور بھارت کے تعلقات کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ امریکا نے بھارت پر پہلے ہی 50 فیصد ٹیرف عائد کر رکھا ہے جبکہ صدر ٹرمپ نے متعدد بار مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
بھارت کے محصولات میں کمی کی پیشکش
امریکی صدر نے حالیہ بیانات میں کہا تھا کہ بھارت نے محصولات صفر کرنے کی پیشکش تو کی ہے لیکن یہ فیصلہ بہت تاخیر سے کیا گیا۔ اسی دوران انہوں نے بھارت کا دورہ بھی منسوخ کر دیا تھا۔








