فلسطینی ریاست کبھی قائم نہیں ہوگی، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا اعلان
نیتن یاہو کا بڑا اعلان
یروشلم (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے میں ایک بڑے یہودی بستی منصوبے کے دستخطی تقریب کے دوران اعلان کیا کہ فلسطینی ریاست کبھی قائم نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کے وکیل نے ضروری سامان اڈیالہ جیل پہنچادیا
پروگرام کا مقصد
نیتن یاہو نے معالیہ ادومیم میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "ہم اپنا وعدہ پورا کریں گے کہ کوئی فلسطینی ریاست وجود میں نہیں آئے گی، یہ زمین ہماری ہے۔ ہم اپنی وراثت، اپنی سرزمین اور اپنی سلامتی کا دفاع کریں گے… اور ہم اس شہر کی آبادی کو دگنا کریں گے۔”
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں طوفانی بارش، گاڑی پانی میں بہہ گئی، ویڈیو وائرل
بین الاقوامی ردعمل
العربیہ نے اے ایف پی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل طویل عرصے سے "ای ون" (E1) نامی تقریباً 12 مربع کلومیٹر علاقے میں تعمیرات کا خواہاں رہا ہے، تاہم بین الاقوامی مخالفت کے باعث یہ منصوبہ سالوں تک رکا رہا۔ گزشتہ ماہ اسرائیل کے سخت گیر وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ نے اس حساس علاقے میں 3,400 گھروں کی تعمیر کے منصوبے کی حمایت کی تھی، جس پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیں: کسی بھی سرکاری ادارے کی جانب سے کوئی باضابطہ نوٹس موصول نہیں ہوا ، فیشن ڈیزائنر ماریہ بی
اقوام متحدہ کی تشویش
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے اس منصوبے کو مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کرنے اور ایک متصل فلسطینی ریاست کے وجود کے لیے “وجودی خطرہ” قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ جانے والے نجی کمپنی کے 11 ملازمین اغواء، پولیس نے 6 بازیاب کرا لیے
بین الاقوامی قانون کی حیثیت
واضح رہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی تمام بستیاں، جو 1967 سے زیر قبضہ ہیں، بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں، چاہے انہیں اسرائیلی حکومت کی جانب سے منظور کیا گیا ہو یا نہیں۔
مغربی ممالک کا موقف
دوسری جانب برطانیہ اور فرانس سمیت کئی مغربی ممالک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ماہ کے آخر میں اقوام متحدہ میں فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کریں گے۔ برطانیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں تباہ کن جنگ کے دوران جنگ بندی پر اتفاق نہ کیا تو یہ قدم ضرور اٹھایا جائے گا۔








