بچپن میں گھریلو ملازم نے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا، ماڈل و اداکارہ عینی جعفری
عینی جعفری کا انکشاف
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ماڈل و اداکارہ عینی جعفری نے انکشاف کیا ہے کہ وہ بچپن میں گھریلو ملازم کی جانب سے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کی بحالی کو ترجیح دی، سندھ حکومت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے: شرجیل میمن
پوڈکاسٹ میں گفتگو
عینی جعفری آج کل ایک پوڈ کاسٹ کی میزبانی کر رہی ہیں، جہاں وہ کئی موضوعات پر کھل کر بات کرتی ہیں۔حال ہی میں انہوں نے اسی حوالے سے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے بچپن میں پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: گیدڑ نے پنجرے میں بند درجنوں قیمتی پرندوں کو مار ڈالا
بچپن کا دردناک واقعہ
عینی جعفری نے انکشاف کیا کہ جب وہ صرف 5 سال کی تھیں تو ان کے دادا دادی کے گھر میں کام کرنے والے باورچی نے انہیں جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا تھا۔باورچی نے لالی پاپ دینے کے بہانے انہیں سرونٹ کوارٹر بلایا اور وہ کم عمری کے باعث راضی ہو کر اس کے ساتھ چلی گئیں، وہاں باورچی نے ان کے ساتھ جنسی ہراسانی کی۔ اس سب کے بعد وہ ڈری نہیں بلکہ فوراً گھر جا کر اپنی والدہ کو حقیقت بتادی۔
یہ بھی پڑھیں: 750 روپے مالیت کے انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی 15 اپریل کو ہو گی
آگاہی کا مقصد
انہوں نے بتایا کہ اس واقعے کو بیان کرنے کا مقصد ہمدردی حاصل کرنا یا فالوورز بڑھانا نہیں بلکہ یہ احساس دلانا ہے کہ ایسے واقعات کئی بچوں کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن وہ خوف کی وجہ سے والدین کو نہیں بتاتے، حالانکہ ڈرنا اس شخص کو چاہیے جو یہ گھناؤنا فعل کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کاش پٹیل کا ایف بی آئی ہیڈ کوارٹر واشنگٹن سے منتقل کرنے کا فیصلہ، 1500 ایجنٹس کو کہاں بھیجا جائے گا؟
قریبی افراد کا خطرہ
عینی جعفری کے مطابق اکثر اوقات یہ عمل کرنے والے قریبی افراد بھی ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کے رویے کو پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 6 سالوں کے دوران کم عمر بچوں سے زیادتی کے 5 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ
والدین کی ذمہ داری
انہوں نے مزید کہا کہ والدین کو اپنے بچوں کو یہ ضرور سکھانا چاہیے کہ کون سا فعل غلط ہے اور اگر وہ کبھی ایسے حالات کا شکار ہوں تو فوراً اشاروں کے ذریعے مدد حاصل کرنے کا طریقہ جان سکیں۔
متاثرہ افراد کا حق
اداکارہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متاثرہ افراد کو چاہیے کہ وہ خاموش رہنے کے بجائے کھل کر بات کریں اور اگر ضرورت ہو تو تھراپی سے بھی مدد لیں۔








