فیروز والا کچہری گھر سے ”بھاگے جوڑوں کی پناہ گاہ“ کیلئے بدنام تھی، گواہ اور نکاح رجسٹرار بھی دستیاب ہوتے، کیوں ہم چند روپوں کی خاطر یہ سب کرتے ہیں
مصنف
شہزاد احمد حمید
یہ بھی پڑھیں: وہ وقت جب نامناسب انداز سے چھونے پر اداکارہ سارہ نے ہدایتکار کو سب کے سامنے تھپڑ رسید کردیا
قسط
287
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو نے سموگ سے پریشان شہریوں کو دلچسپ مشورہ دے دیا
بھاگے جوڑوں کی پناہ گاہ
فیروز والا کچہری گھر سے ”بھاگے جوڑوں کی پناہ گاہ“ کے طور پر بدنام تھی۔ یہاں وکیل ایسے جوڑوں کی مدد کرتے، نکاح خواں بھی تھے جو نکاح پڑھاتے، شادی کے گواہ بھی دستیاب ہوتے، نکاح رجسٹرار بھی موجود ہوتے جو نکاح کا اندراج کرتے اور سیکرٹری یونین کونسل بھی جو ایسے نکاح رجسٹر ہی نہ کرتے بلکہ اس کا سرٹیفیکیٹ بھی جاری کرتے تھے۔ افتخار بھی ایسا ہی سیکرٹری تھا۔ ناجانے ہم چند روپوں کی خاطر کیوں گھر سے بھاگے بچوں کی مدد کے لئے یہ سب کچھ کر کے ماں باپ کے ارمانوں کا گلہ گھونٹتے ہیں اور ان کے زخموں پر گل پا شی بھی کرتے ہیں۔ ہمارا سماج دن بدن اپنی روایات سے دور ہی ہوتا جارہا ہے، کیوں؟
یہ بھی پڑھیں: سول سرونٹ ایکٹ میں ترمیم منظور، افسران پر اپنے و اہل خانہ کے اثاثے ظاہر کرنا لازمی قراردیدیا گیا
افتخار کی کہانی
افتخار ایسے ہی ایک کیس میں پکڑا گیا تھا۔ انکوائری میں اس کا جرم ثابت ہوا اور نوکری سے برخاست ہو گیا۔ اس نے ایک ریٹائر صوبیدار میجر کی بیٹی کا نکاح درج کیا تھا، جو ایسے ہی حالات سے گزری تھی۔ لڑکی کا باپ کسی صورت بھی اس جرم میں ملوث افراد کو بخشنے کے لئے تیار نہ تھا۔ غلط کام کا غلط نتیجہ۔ سزا افتخار کو ملی۔ پولیس کی قید میں بھی رہا۔ نوکری بھی چھوٹی۔ وہ تو بھلا ہو اس انصاف کے نظام کا کہ اسے بحال بھی کر دیا گیا اور وہ پہلے سے زیادہ لگن سے اس پیشہ میں جٹ گیا تھا۔ بہت سال پہلے وہ اس جہاں فانی سے رخصت ہو گیا۔ اللہ اس کی خطائیں درگزر کرے۔ آمین۔
یہ بھی پڑھیں: سابق پی ٹی آئی رہنما گلریز افضل کا پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ
awaiting posting کا جھمیلا
الیکشن کے بعد نیا بلدیاتی نظام رائج ہو چکا تھا۔ نئے نظام میں میری پوسٹنگ کسی بھی جگہ پر نہ ہوئی۔ بہت سے افسر سرپلس ہو گئے، میں بھی ان میں تھا۔ نیا نظام کا حصہ بننے پر ابھی دماغ بھی تیار نہ تھا، نتیجہ یہ ہوا کہ میں awaiting posting ہو گیا۔ اگلے سات آٹھ ماہ مجھے کڑے امتحان سے گزرنا ہو گا جس کا کم از کم مجھے اس وقت بالکل بھی اندازہ نہ تھا۔ مجھے ایک بات یقین ہے کہ ”مشکل وقت بھی گزر جاتا ہے۔“
یہ بھی پڑھیں: سموگ کا راج، بھارتی فضائی آلودگی کے اثرات لاہور پر آرہے ہیں: عظمیٰ بخاری
گھر کے چراغ
ستمبر یا اکتوبر 2001ء میں میں awaiting posting ہوا۔ شروع میں سوچا پچھلے 13 سال بہت کام کیا تھا۔ 13 سالوں میں صرف 13 ہی چھٹیاں کی ہوں گی جن میں 7 دن کی چھٹی شادی کے موقع پر لی تھی۔ چلو موقع ملا تھا کچھ آرام کرتے ہیں لیکن چند دن بعد ہی بوریت شروع ہوگئی۔ جنہیں کام کی عادت ہو ان کے لئے فارغ بیٹھنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس نظام میں awaiting posting افسر کو تنخواہ بھی نہیں ملتی تھی۔ پہلے 2 ماہ تو گزر گئے، پھر تربیتی پروگرام کا چیک ملا تو تیسرے ماہ کا گزارا بھی ہو گیا مگر جیسے جیسے یہ دورانیہ بڑھ رہا تھا مالی مشکلات میں اضافہ ہوتا رہا۔ بچوں کی سکول کی فیس تھی، کبھی کبھار کوئی فنکشن آ جاتا، گاڑی کا پٹرول تھا۔ چلو کھانا تو والدین کے ساتھ کھا سکتا تھا، مگر باقی خرچہ کہاں سے پورا کرتا۔ کھینچ کھانچ کے 4 ماہ گزر گئے۔ اب آٹے دال کا بھاؤ پتہ چلنے لگا تھا۔ میں نے کوشش کی کہ ہیڈ کواٹرز پر ہی پوسٹنگ ہو جائے مگر ناکام رہا۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








