پنجاب میں حالیہ سیلاب سے کتنا زرعی رقبہ متاثر ہوا اور کتنا معاشی نقصان ہوا ۔۔؟ رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف
پنجاب میں حالیہ سیلاب کی تباہی
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب میں حالیہ سیلاب کے اثرات جاننے کے لیے ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے، جس میں پتہ چلا ہے کہ کتنے بڑے زرعی رقبے کو نقصان پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے پیٹرولیم لیوی بڑھا کر عوام کو قیمتوں میں کمی کے ریلیف سے محروم کردیا
زرعی رقبہ اور متاثرہ زمین
’’دی نیوز‘‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیرِ زراعت نے بتایا کہ پنجاب میں حالیہ سیلاب کے نتیجے میں 4.3 فیصد زرعی رقبہ متاثر ہوا اور 13 لاکھ ایکڑ زمین زیرِ آب آ چکی ہے۔ اس سیلاب سے چاول کی 9 فیصد، گنے کی 7 فیصد، اور کپاس کی 2 فیصد فصل متاثر ہوئی۔ سب سے زیادہ نقصان دریائے راوی، چناب، اور ستلج کے کنارے واقع 28 اضلاع میں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: نادرا نے وفات پانے والے 42 لاکھ افراد کے شناختی کارڈ منسوخ کردیے
معاشی نقصان اور ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق اس سیلاب کا معاشی نقصان 409 ارب روپے ہے، جو کہ جی ڈی پی کا اعشاریہ تین فیصد بنتا ہے۔ زرعی پیداوار میں 15 سے 20 فیصد کمی سے شرحِ نمو مزید اعشاریہ پانچ سے ایک فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق، غذائی اجناس کی قیمتوں میں 20 سے 30 فیصد اضافے کا خدشہ ہے۔ کپاس کی درآمد میں کمی اور ٹیکسٹائل، چاول، اور چینی کی برآمدات میں کمی کے باعث تجارتی خسارہ تقریباً 2 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
حکومت کے اقدامات کی ضرورت
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو متاثرہ کسانوں کی فوری مالی مدد فراہم کرنے، قرضوں کی ری شیڈولنگ کرنے، بیج اور کھاد کی سستی فراہمی یقینی بنانے، سیلابی علاقوں میں کاشتکاری روکنے، اور زرعی پیٹرن کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالنے کے اقدامات کرنے چاہیے۔








