پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں: جلال پور پیر والا کے قریب موٹروے کا حصہ پانی میں بہہ گیا، ٹریفک کے لیے بند
جاری سیلاب کی تباہ کاریاں
ملتان (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد بپھرے دریاؤں نے اپر پنجاب کے بعد جنوبی پنجاب میں بھی تباہی کی داستان رقم کردی۔ جلال پور پیروالا کے قریب دونوں اطراف سیلابی پانی کے بہاؤ نے ملتان سکھر ایم فائیو (M-5) موٹروے کو نقصان پہنچایا، جس کا ایک حصہ بہہ گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں موٹروے کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مصباح کی جگہ اظہر محمود کو کوچ کیوں بنایا گیا؟ باسط علی نے راز فاش کردیا۔
پنجاب کے دریاؤں کی صورتحال
پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہونے کے باوجود، جنوبی علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ سیلاب جنوبی پنجاب سے آگے بڑھتا ہوا سندھ میں داخل ہورہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 60 کروڑ روپے کی دھوکا دہی کا الزام، معروف بھارتی اداکارہ اور شوہر کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی گئی
شجاع آباد کی صورتحال
شجاع آباد میں دریائے چناب میں طغیانی سے 15 موضاجات پانی میں ڈوب گئے، جبکہ 17 موضاجات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اب تک 4000 سے زیادہ افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سول نافرمانی کی تحریک پر بانی پی ٹی آئی سے مشاورت ہوئی ہے، علی امین گنڈا پور
جال پور پیروالا میں نقصانات
جال پور پیروالا میں دریائے چناب اور دریائے ستلج نے 80 سے دیہات کو ڈبو دیا، جہاں سے 80 ہزار متاثرین کو ریسکیو کیا گیا، جبکہ متعدد افراد اب بھی سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سبکزئی، ژوب: دھماکہ، ایک فرد کی جان کی بازی ہار گیا
موٹروے ایم 5 کی حالت
دریائے ستلج کے پانی نے موٹروے ایم 5 کو بھی متاثر کیا، جہاں موٹروے ٹنل کے قریب دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ موٹروے کے دونوں اطراف پانی کی روانگی کے سبب موٹروے اب بھی ٹریفک کے لیے بند ہے۔
جلالپور پیروالا کے قریب موٹروے ایم 5 کا شمالی حصہ 50فٹ تک سیلابی پانی میں بہہ گیا ہے اور موٹروے کا جنوبی حصہ بھی کٹاؤ کا شکار ہے۔ ملتان سکھر موٹروے ایم 5 ملتان سے ترنڈہ محمد پناہ اور اُچ شریف تک کل سے بند ہے اور اب موٹروے ایم فائیو کھلنے کے فوری امکانات بھی نہیں ہیں۔ pic.twitter.com/0LGZn3SZKb
— CPEC ???????????????? (@CPEC_UPDATE) September 15, 2025
یہ بھی پڑھیں: جاپان، 30 سال کی سروس کے بعد بس ڈرائیور ایک غلطی سے 84 ہزار ڈالر کی پینشن سے محروم ہوگیا۔
مظفر گڑھ کی صورتحال
دریائے چناب میں پانی کی سطح کم ہونے کے باوجود، مظفر گڑھ میں کئی بستیاں تاحال زیرآب ہیں۔ سیلاب نے 2000 سے زائد گھروں کو متاثر کیا ہے جبکہ 30000 سے زیادہ متاثرین اب بھی گھروں کی راہ تک رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جمعیت علماء اسلام (س) کے امیر مولانا عبد الحق ثانی کی وفد کے ہمراہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن سے منصورہ میں تفصیلی ملاقات
دیگر متاثرہ علاقوں کی تفصیلات
لیاقت پور میں پانی کی سطح تو کم ہوگئی ہے لیکن کئی بستیاں تاحال زیرآب ہیں۔ سیلاب متاثرین شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ چشتیاں کے 47 موضع جات ابھی بھی پانی کی لپیٹ میں ہیں، جن میں موضع راجوشاہ، بونگہ جھیڈ، مزید شاہ، میرن شاہ شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اوچ شریف کے 25 دیہات پانی میں ڈوبے گئے اور زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی، ایس ایچ او کی معطلی کا معاملہ متاثرہ شہری کے ویڈیو بیان کے بعد نیا رخ اختیار کر گیا
علی پور کا حال
علی پور میں دریائے ستلج، راوی اور چناب نے کئی بستیوں کو ڈبو دیا۔ ہیڈ پنجند سے 2 لاکھ 87 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزرا ہے۔ علی پور سے سیت پور کا زمینی راستہ بحال کرنے کے لئے کام جاری ہے۔
سیلاب کی سمت
سیلاب راجن پور، روجہان کو متاثر کرتا ہوا سندھ کی جانب رواں دواں ہے۔ کوٹ مٹھن کے مقام پر دریائے سندھ میں اس وقت پانی کا بہاؤ 6 لاکھ کیوسک ہے۔








