حالیہ واقعات کے سبب قطر اور دیگر ممالک نے اسرائیل کو تنہا کر دیا : نیتن یاہو
نیتن یاہو کا بیان
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے تسلیم کیا کہ حالیہ واقعات کے سبب قطر اور دیگر ممالک نے اسرائیل کو تنہا کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شام میں اسد خاندان کے 50 سالہ دور کا ایک ہفتے میں خاتمہ: مستقبل میں کیا ہوگا؟
اسپارتی تشبیہ
انہوں نے اسرائیل کو یونان کی قدیم ریاست اسپارٹا سے تشبیہ دی اور کہا کہ قطر کی قیادت میں اسرائیل کا اقتصادی محاصرہ کیا جا رہا ہے، یہ صورتحال سُپر اسپارٹا جیسی ہے جس کے لیے تیار ہونا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 15 سال کی تھی جب ٹرمپ نے زیادتی کی کوشش کی، نئی ایپسٹین فائلز میں امریکی صدر پر خاتون سے زیادتی کا الزام
نئی اقتصادی حقیقت
اسرائیلی اخبار کو انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کو نئی اقتصادی حقیقت کے لیے تیار ہونا چاہیے، خود انحصاری یقینی بنانے کے لیے اسلحہ سازی کی صنعت کو آزادانہ اور خود مختار طور پر مضبوط کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: دیا مرزا نے اپنے نام کے پیچھے چھپی کہانی بیان کردی
قطر کی قیادت میں ناکہ بندی
ان کا کہنا تھا کہ قطر کئی ملکوں کے ساتھ مل کر اسرائیل کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش کی قیادت کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قطر اور چین بڑی رقم خرچ کرکے اسرائیل کی میڈیا ناکہ بندی کر رہے ہیں۔ آئندہ برسوں میں اسرائیل کو اپنی صنعتوں خاص طور پر اسلحہ سازی میں خود انحصاری حاصل کرنا ہوگی اور اسی طرح ناکہ بندی ختم کی جا سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی قوم کی محبت اور حمایت کو کبھی نہیں بھولیں گے : ایرانی سفیر
خطرات اور چیلنجز
نیتن یاہو نے کہا کہ قطر کی کوشش ہے کہ جیسے ایران نے ناکہ بندی کی تھی اسی طرح اقدام کیا جائے اور اسرائیل کو تباہ کردیا جائے، نیتن یاہو بولے کہ اسرائیل نے اس ناکہ بندی کو توڑا تھا اور اب بھی اسے کامیاب ہونے نہیں دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لائیو پروگرام کے دوران مداخلت، احسن اقبال نے وضاحت پیش کردی
مسلم اقلیتوں کا اثر
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کے لیے سب سے بڑا چیلنج انتہا پسند مسلم اقلیتوں کا یورپ کی اسرائیل پالیسی پر اثر و رسوخ ہے۔ مغربی یورپ سے اسرائیل کو چیلنج درپیش ہے اور اس ناکہ بندی کو بھی توڑ دیں گے کیونکہ امریکہ اور بہت سے ممالک ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔
سوشل میڈیا کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو روایتی اور سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ پیدا کرنے کے آپریشنز پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی ایتھنز اور اسپارٹا یا شاید سُپر اسپارٹا کی حالت میں ہیں۔








