پاکستان اور سعودی عرب کا معاہدہ بظاہر ماضی کے دفاعی معاہدوں کی ہی توسیع دکھائی دیتا ہے، تجزیہ کار فاران جعفری
پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) دفاعی تجزیہ کار فاران جعفری نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نئے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بظاہر ماضی کے دفاعی معاہدوں کی ہی توسیع دکھائی دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کامران بنگش کیخلاف پولیس پارٹی پر فائرنگ کا کیس، عدالت کا مکمل چالان پیش کرنے کا حکم
معاہدے کی تفصیلات
ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان، ضرورت پڑنے پر سعودی عرب میں مقدس مقامات کے تحفظ میں کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا اسمبلی میں آل پارٹیز امن جرگہ کے انعقاد پر اسپیکر بابر سلیم سواتی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی مبارکباد کے مستحق ہیں،صحافی حامدمیر
سعودی عرب کی ممکنہ مدد
فاران جعفری نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے کی صورت میں کیا سعودی عرب پاکستان کے دفاع کے لیے آگے آئے گا، تاہم عملی طور پر ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سلمان اکرم راجہ کی فہرست میں شامل افراد کو عمران خان سے ملاقات کرانے کا حکم دے دیا
معاہدے کے فوائد
انکے مطابق، اس معاہدے کا اصل فائدہ سعودی عرب کو پاکستانی افرادی قوت اور دفاعی تعاون کی شکل میں ہوگا جبکہ پاکستان کو اس کے بدلے سعودی سرمایہ کاری اور سفارتی حمایت ملے گی۔
خلاصہ
واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے حال ہی میں دفاعی معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ، دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔








