پاکستان اور سعودی عرب کا معاہدہ بظاہر ماضی کے دفاعی معاہدوں کی ہی توسیع دکھائی دیتا ہے، تجزیہ کار فاران جعفری
پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) دفاعی تجزیہ کار فاران جعفری نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نئے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بظاہر ماضی کے دفاعی معاہدوں کی ہی توسیع دکھائی دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صوبے میں کسی آپریشن کی اجازت نہیں دی جائے گی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور
معاہدے کی تفصیلات
ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان، ضرورت پڑنے پر سعودی عرب میں مقدس مقامات کے تحفظ میں کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات میں پیکا ایکٹ کے تحت 372 غیر قانونی مقدمات درج ہونے کا انکشاف
سعودی عرب کی ممکنہ مدد
فاران جعفری نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے کی صورت میں کیا سعودی عرب پاکستان کے دفاع کے لیے آگے آئے گا، تاہم عملی طور پر ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
یہ بھی پڑھیں: پاپ گلوکارہ نازیہ حسن کو مداحوں سے بچھڑے 25 برس بیت گئے
معاہدے کے فوائد
انکے مطابق، اس معاہدے کا اصل فائدہ سعودی عرب کو پاکستانی افرادی قوت اور دفاعی تعاون کی شکل میں ہوگا جبکہ پاکستان کو اس کے بدلے سعودی سرمایہ کاری اور سفارتی حمایت ملے گی۔
خلاصہ
واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے حال ہی میں دفاعی معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ، دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔








