ایشیا کپ سے دستبرداری کی صورت میں پاکستان کو کتنا بڑا نقصان ہوسکتا تھا؟
پاکستان کرکٹ بورڈ کا بڑا مالی نقصان
دبئی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ایشیا کپ سے دستبرداری کی صورت میں پاکستان کو بڑا مالی نقصان پہنچ سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ، نیتن یاہو کا فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنے کے منصوبے میں پیش رفت کا اشارہ
مالی نقصان کی تخمینہ
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایشیا کپ سے دستبرداری کے فیصلے پر پاکستان کو ساڑھے 3 سے ساڑھے 4 ارب تک کا مالی نقصان پہنچ سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ٹریفک روانی میں خلل ڈالنے اور پیشہ ور گداگروں کے خلاف کریک ڈاؤن، 48 گھنٹوں میں 310 زیر حراست
نشریاتی معاہدوں پر اثرات
ایشیا کپ کے بائیکاٹ کی صورت میں نشریاتی معاہدوں اور سپانسرشپس سے آنے والی آمدنی متاثر ہوجاتی، جبکہ دوسری جانب سونی پکچرز کا 48 ارب روپے کا نشریاتی معاہدہ بھی متاثر ہوسکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 26 لاکھ ڈالر امداد کا اعلان کردیا
ایشین کرکٹ کونسل کی آمدنی کی تقسیم
ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کی آمدنی کا 75 فیصد پانچ ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک بھارت، پاکستان، سری لنکا، بنگلا دیش اور افغانستان میں برابر تقسیم ہوتا ہے، یعنی ہر ملک کو 15 فیصد ملتا ہے، باقی 25 فیصد ایسوسی ایٹ ممالک میں تقسیم ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کنگز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو جیت کے لیے ہدف دے دیا
پی سی بی کی متوقع آمدنی
ایشیا کپ کے ٹورنامنٹ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو نشریاتی معاہدوں، سپانسرشپس اور ٹکٹوں کی فروخت سے 12 سے 16 ملین ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔
سونی پکچرز کا معاہدہ
بھارت کے سونی پکچرز نیٹ ورک نے 2024 سے 2031 تک کے لیے 48 ارب روپے (170 ملین ڈالر) کا معاہدہ طے کر رکھا ہے جس میں خواتین اور انڈر 19 ایشیا کپ کے نشریاتی حقوق بھی شامل کیے گئے ہیں۔








