اراکین پارلیمنٹ عوام کے ووٹ سے آتے ہیں، انہیں عوامی مسائل کا علم ہونا چاہیے، جج سپریم کورٹ
سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس سے متعلق سماعت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ اراکین پارلیمنٹ عوام کے ووٹ سے آتے ہیں، انہیں پتا ہونا چاہیے کہ عوامی مسائل کیا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی نے 4 ماہ گزرنے کے باوجود واجبات ادا نہیں کیے، جیسن گلیسپی کے انکشاف نے نیا تنازعہ کھڑا کردیا
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پنجاب نے زرعی آمدن پر ٹیکس میں اضافہ کردیا
وکیل کا مؤقف
ٹیکس پیئر کے وکیل خالد جاوید نے دلائل کا آغاز کیا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ میں بل لانے کا طریقہ کار کیا ہے۔
وکیل ٹیکس پیئر نے مؤقف اپنایا کہ پالیسی میکنگ اور ٹیکس کلیکٹر دو مختلف چیزیں ہیں، ٹیکس کلیکٹر ایف بی آر میں سے ہوتے ہیں جو ٹیکس اکھٹا کرتے ہیں، پالیسی میکنگ پارلیمنٹ کا کام ہے۔ اگر میں پالیسی میکر ہوں تو میں ماہرین سے پوچھوں گا کہ کیا عوام کو اس کا فائدہ ہے یا نقصان۔
یہ بھی پڑھیں: جے یو آئی اور ہماری جنرل سیٹیں برابر تو مخصوص نشستیں کیوں نہیں؟ن لیگ کے وکیل کے الیکشن کمیشن میں دلائل
جسٹس حسن اظہر رضوی کے ریمارکس
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ اراکین پارلیمنٹ عوام کے ووٹ سے آتے ہیں، انہیں پتا ہونا چاہیے عوامی مسائل کیا ہیں۔ کیا آج تک کسی پارلیمنٹرین نے عوامی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے تجاویز دی ہیں؟ جس کمیٹی کی آپ بات کر رہے ہیں، اس میں بحث بھی ہوتی ہے یا جو بل آئے اسے پاس کر دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کھانے میں تھوک اور پیشاب ملانے کی افواہی ویڈیوز سے بھارتی ریاستوں میں شور مچ گیا
قومی اسمبلی کی بحث کا فقدان
خالد جاوید نے مؤقف اپنایا کہ قومی اسمبلی میں آج تک کسی ٹیکس ایکسپرٹ کو بلا کر ٹیکس کے بعد نفع نقصان پر بحث نہیں ہوئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ سپر ٹیکس کے حامی ہیں، قومی اسمبلی میں ایسی بحث نہیں ہو سکتی جو ایک کمیٹی میں ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کو ’’ایک اور جھٹکا‘‘ ،اہم رہنما نے علیٰحدگی اختیار کر لی
ایف بی آر کی جانب سے جواب
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ یہی سوال ہم نے ایف بی آر کے وکلاء سے بھی پوچھا تھا، ایف بی آر کے وکلاء نے جواب دیا تھا کہ مختلف چیمبرز آف کامرس سے ماہرین کو بلایا جاتا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مختلف کمیٹیاں ہیں، لیکن کمیٹیوں کے کیا نتائج ہوتے ہیں، یہ آج تک نہیں بتایا۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی بینچ نے سرکاری ملازمین کی غیرملکی سے شادی کیخلاف درخواست 20ہزار جرمانے کیساتھ خارج کردی
ماہرین کی رائے کی اہمیت
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اصول تو یہ ہے کہ ٹیکس نافذ کرنے سے پہلے ماہرین کی رائے ہونی چاہیے۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ بات بھی سامنے ہونی چاہیے کہ اگر 10 فیصد ٹیکس لگ رہا ہے تو کتنے لوگ متاثر ہوں گے۔
سماعت کا آگے کا شیڈول
سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کل ساڑھے نو بجے تک ملتوی کر دی گئی۔








