خلیج تعاون کونسل کا مشترکہ دفاعی اجلاس، اسرائیلی حملے کی شدید مذمت، اجتماعی دفاعی اقدامات کا اعلان
اجلاس کا پس منظر
دوحہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی مشترکہ دفاعی کونسل نے جمعرات کو ایک غیر معمولی اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں قطر پر اسرائیلی حملے کو "خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی" قرار دیتے ہوئے فوری طور پر اجتماعی دفاعی اقدامات کی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن میں جدید ترین مانیٹرنگ نظام ”شکرا” کا افتتاح
اجلاس کے نتائج
العربیہ کے مطابق اجلاس کے بعد جاری سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی حملے کی "سخت ترین الفاظ میں مذمت" کی جاتی ہے، جو ایک خطرناک اشتعال انگیزی اور اقوام متحدہ کے چارٹر سمیت بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ قطر پر حملہ دراصل تمام جی سی سی ممالک پر حملہ ہے، اور دوحہ کی جانب سے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی بھرپور حمایت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے پر بڑی پیش رفت
اجلاس میں کی جانے والی پیشرفت
اجلاس میں طے پایا کہ متحدہ عسکری کمان کے ذریعے انٹیلی جنس کے تبادلے کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ جی سی سی آپریشنز سینٹرز کے درمیان فضائی صورتحال کی براہِ راست معلومات شیئر کی جائیں گی، اور بیلسٹک میزائلز کے خلاف ابتدائی وارننگ سسٹم کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس کے قیام پر کام تیز کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کام کرو یا گھر جاؤ یہ تماشہ بند ہو جانا چاہیے
مشترکہ دفاعی منصوبے
اجتماعی دفاعی منصوبوں کو آپریشنز اور ٹریننگ کمیٹی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا۔ تین ماہ کے اندر مشترکہ فضائی دفاعی اور آپریشنز سینٹرز کی مشقیں کرائی جائیں گی، جس کے بعد ایک لائیو فضائی مشترکہ مشق بھی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ہم نے اعتراض کیا تو کہا گیا کہ بہت لاجواب پل بنائیں گے‘‘حامد میر نے ایف 8انٹرچینج روڈ بیٹھنے پرسوال اٹھا دیا
خلیجی ممالک کی سلامتی
وزراء نے زور دیا کہ خلیجی ممالک کی سلامتی ناقابل تقسیم ہے اور مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تمام عسکری و انٹیلی جنس سطح پر تعاون جاری رکھا جائے گا تاکہ خطے کی حفاظت اور طاقتور دفاعی صلاحیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس کی صدارت
یہ اجلاس قطر کے نائب وزیراعظم و وزیرِ مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن آل ثانی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اس میں تمام چھ جی سی سی ممالک کے وزرائے دفاع اور اعلیٰ نمائندے، نیز جی سی سی کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدوئی شریک ہوئے۔








