امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر واشنگٹن میں گر کر تباہ
ہیلی کاپٹر کا حادثہ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی فوج کا ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر واشنگٹن میں گر کر تباہ ہو گیا، جس میں سوار 4 اسپیشل آپریشنز کے فوجیوں کی حالت تاحال ’نامعلوم‘ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کا آلو کے کاشتکاروں کے متعلق وزیراعظم شہبازشریف کو خط
حادثے کی جگہ
تھرسٹن کاؤنٹی شیرف آفس کے مطابق حادثہ سمٹ لیک کے علاقے میں پیش آیا، جہاں جائے حادثہ کو تلاش کر لیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق جائے حادثہ پر آگ لگی ہوئی ہے اور تقریباً ایک ایکڑ رقبہ جل کر خاکستر ہو چکا ہے۔ حادثہ مقامی وقت کے مطابق رات 9 بجے کے قریب پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں: توانائی تنصیبات پر حملہ ہوا تو۔۔۔؟ خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان نے دھمکی دیدی
فوجی اعداد و شمار
امریکی فوجی حکام کے مطابق بلیک ہاک میں سوار فوجی 160ویں اسپیشل آپریشنز ایوی ایشن رجمنٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ ایک معمول کی تربیتی پرواز پر تھے۔
یہ بھی پڑھیں: انتظامیہ کی پھرتیاں، وزیر آباد میں مریم نواز کے آنے سے پہلے ریلیف کیمپ قائم کیا گیا، دورے کے بعد کیمپ ختم، سامان واپس بھجوادیا گیا۔
تحقیقات کا آغاز
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرولر سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد حادثے کا خدشہ ظاہر کیا گیا، حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ تھرسٹن کاؤنٹی شیرف ڈیریک سانڈرز نے بتایا کہ حادثے کا مقام جوائنٹ بیس لیوس مک کارڈ سے تقریباً 15 میل کے فاصلے پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشعال یوسفزئی کے لیے پی ٹی آئی ٹکٹ کا معاملہ، بلال غوری نے مریم ریاض وٹو کو وضاحت پر نئے امتحان میں ڈال دیا
ریسکیو ٹیموں کی کوششیں
ان کے مطابق جائے حادثہ پر آگ اور شدید حرارت کے باعث ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اسپیشل آپریشنز کی ریسکیو یونٹس وہاں پہنچ رہی ہیں۔ جوائنٹ بیس لیوس مک کارڈ پوجیٹ ساؤنڈ کے علاقے میں واقع ہے، جو آئی کور اور 62ویں ایئر لفٹ ونگ کا ہیڈکوارٹر ہے۔
بیس کی تفصیلات
بیس کی ویب سائٹ کے مطابق یہاں 40 ہزار حاضر سروس فوجی، ان کے اہل خانہ اور ہزاروں کنٹریکٹرز موجود ہیں۔ فوجی جریدے ملٹری ٹائمز کے مطابق حادثے کے وقت موسم صاف تھا اور 10 میل تک کا منظر واضح دکھائی دے رہا تھا۔








