پاکستان سعودی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں، خطے میں امن و استحکام میں کردار ادا کرے گا، ترجمان دفتر خارجہ
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کی وضاحت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ترجمان دفترخارجہ شفقت علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا تاریخی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔ یہ معاہدہ خطے میں امن و استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 20 کلو آٹے کا تھیلا 300 روپے مہنگا
معاہدے کی تفصیلات
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یہ معاہدہ دونوں ممالک کی دفاعی تعاون کو بڑھانے اور مشترکہ سلامتی کو یقینی بنانے کی عکاسی کرتا ہے۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک ملک پر جارحیت کو دونوں ممالک پر جارحیت تصور کیا جائے گا۔ یہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ دہائیوں پر مشتمل مضبوط شراکت داری کو باضابطہ شکل دیتا ہے اور یہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، جو کہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب یونیورسٹی میں پولیس کی وردی کی آڑ میں آئس سپلائی کرنے والا گرفتار
سلامتی کے حوالے سے اہمیت
یہ معاہدہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ریسٹورنٹس، ریٹیلرز کی جعلی رسید کی رپورٹ کرنے پر بڑے انعام کا اعلان
ہنگامی اسلامی سربراہی اجلاس
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہنگامی اسلامی سربراہی اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں 50 سے زائد اسلامی ممالک نے شرکت کی۔ اجلاس میں اسرائیلی جارحیت پر غور کیا گیا جس میں بےگناہ شہریوں کی شہادت ہوئی۔ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ تیار کیا گیا جو متفقہ طور پر منظور ہوا۔ یہ اعلامیہ اسرائیلی حملوں کو غیر قانونی اور بلا اشتعال قرار دیتا ہے۔
پاکستان کی موقف
پاکستانی وزیر خارجہ نے اجلاس میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور ثالثی میں قطر کے کردار کو سراہا۔ پاکستان نے اس معاملے کو انسانی حقوق کونسل جنیوا میں بھی اٹھایا اور فوری بحث کا مطالبہ کیا۔








