پاکستان کی حکومت اور ریاست افغانستان کے حوالے سے فیصلہ کن موڑ پر ہے، سینئرصحافی و تجزیہ کار سلمان غنی
پاکستان کی حکمت عملی
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی و تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور ریاست افغانستان کے حوالے سے فیصلہ کن موڑ پر ہیں۔ صرف مذمتی بیانات سے معاملہ حل نہیں ہو گا۔ پاکستان نے ہمیشہ مؤقف اپنایا ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان کے استحکام کے ساتھ منسلک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ذولفی بخاری کو امریکی کانگریس کی ٹام لینٹوس کمیشن کے سامنے جانا مہنگا پڑ گیا
وزیر دفاع کا بیان
دنیا ٹی وی کے پروگرام تھنک ٹینک میں گفتگو کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کے افغانستان کو دشمن ملک قرار دینے کے بیان پر بات چیت کی، جس میں انہوں نے وضاحت کی کہ یہ بات انہوں نے آئی ایس پی آر کے ہمراہ افغان سرزمین پر ملا متقی کو کہی تھی کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ ہمارے بچے شہید کریں اور ہم آپ کو ہار پہنائیں۔ آئی ایس پی آر نے بھی جرمن ریڈیو کو انٹرویو میں واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت اور افغانستان براہ راست ملوث ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دل سے سوچنے کی ضرورت ہے، صورتحال تشویشناک ہے، پوری قوم متفق ہے کہ یہ ہماری جنگ نہیں، بڑی قوت کی جنگ جبراً ہماری بنا دی گئی ہے۔
افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی خدمات
سلمان غنی نے مزید کہا کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی خدمات کی ایک تاریخ ہے، لیکن افغانستان کی طرف سے پاکستان میں ٹھنڈی ہوائیں نہیں آ رہی ہیں۔ چین بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت کے لئے کوشش کر چکا ہے۔ پاکستان شواہد پیش کر رہا ہے، تو افغان انتظامیہ کو اس کا جواب دینا ہو گا۔ دوحہ معاہدے میں افغانستان نے دستخط کیے تھے کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔
بھارت اور افغان تعلقات
پاکستان کو معاشی طور پر خود انحصار اور مضبوط ہوتا دیکھ کر دشمن ملک بھارت افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے۔ افغانستان میں بھارت کا باقاعدہ ایک نیٹ ورک موجود ہے جو پاکستان کے خلاف سرگرم ہے۔








