کراچی، بجلی کی عدم فراہمی پر احتجاج، خانیوال سے شادی میں شرکت کے لیے آئے باراتی بھی پھنس گئے
کراچی میں بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج
کراچی (آئی این پی) کراچی میں لیاقت آباد سی ایریا میں کئی گھنٹوں سے بجلی کی بندش کے خلاف علاقہ مکینوں نے لیاقت آباد ڈاکخانے کے قریب احتجاج کیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے ٹائر سمیت دیگر اشیاء کو نذر آتش کیا، جس کے باعث بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت میں کتنی خواتین ملازمت کرتی ہیں؟ ڈیٹا سامنے آ گیا
مقامی لوگوں کی مشکلات
مکینوں کا کہنا تھا کہ گزشتہ 2 روز سے علاقے میں بجلی بند ہے جس کی وجہ سے معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو رہے ہیں اور انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ احتجاج کے دوران خانیوال سے شادی میں شرکت کے لئے آئے باراتی نے بتایا کہ احتجاج کی وجہ سے لیاقت آباد میں ٹریفک جام کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغان حکومت نے دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی، دفتر خارجہ
پولیس کی مداخلت
پولیس نے موقع پر پہنچ کر سخت جدوجہد کے بعد مظاہرین کو مذاکرات کے بعد منتشر کرکے ٹریفک بحال کرادیا۔
یہ بھی پڑھیں: لیسکو کا کریک ڈاؤن، بجلی چوروں سے کتنی رقم ریکور کر لی؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں
بجلی کی غیر اعلانیہ بندش
سکیم 33 کی مختلف رہائشی سوسائٹیز جیسے کہ کراچی یونیورسٹی ایمپلائز سوسائٹی، پی سی ایس آئی آر اور اسٹیٹ بینک سوسائٹی سمیت کئی علاقوں میں جمعہ و ہفتہ کی درمیانی شب اچانک بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی جو بعد ازاں تقریباً 3 گھنٹے بعد بحال کردی گئی۔ علاقہ مکینوں نے موقف اختیار کیا کہ بلوں کی بروقت ادائیگی کے باوجود کے الیکٹرک کی جانب سے رات کے اوقات میں اکثر روزانہ کی بنیاد پر بجلی کی سپلائی بند کردی جاتی ہے، جس سے شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
حکومت سے مطالبہ
مکینوں نے وزیر اعلی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اسکیم 33 میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے۔








