بگرام ایئر بیس کی واپسی: صدر ٹرمپ کی افغانستان کو بڑی دھمکی
ٹرمپ کی افغانستان کو وارننگ
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ٹرمپ نے افغانستان کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بگرام ایئر بیس اُن لوگوں کو واپس نہیں دی گئی جنھوں نے اسے بنایا یعنی امریکا تو بہت برا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں خاتون کو کار سواروں نے اغوا کرلیا، فوٹیج سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر بیان
صدر ٹرمپ نے یہ بیان اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل کی ایک پوسٹ میں لکھا اور بعد ازاں صحافیوں سے بھی اسی اشارے میں بات کی، جس میں اُنھوں نے بگرام کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: صیہونی ریاست سخت سزا کا انتظار کرے: اسرائیلی حملوں پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا ردعمل سامنے آگیا
بگرام ایئر بیس کا کنٹرول
2021 میں امریکی انخلا کے بعد بگرام ایئر بیس طالبان کے کنٹرول آگئی جبکہ طویل عرصے تک یہ ایئر بیس امریکی آپریشنز کا مرکز رہی۔ اس ایئر بیس کی بحالی یا امریکی دسترس دوبارہ حاصل کرنے سے متعلق ٹرمپ نے افغانستان کو بڑی دھمکی دی کہ اگر یہ ایئر بیس امریکا کو واپس نہ دی تو بہت برا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: 21 ویں صدی کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کرنا، انسانوں کو اولین ترجیح دینی ہوگی: سربراہ اقوام متحدہ
طالبان کا جواب
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق طالبان اور کابل میں افغان سرکاری ذرائع نے فی الفور اس مطالبے کی مخالفت کی، افغان حکام کا کہنا ہے کہ کابل مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن امریکا کو وسطی ایشیائی ملک میں فوج کی تعیناتی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی کے خلاف کثیر الجہتی بین الاقوامی حکمت عملی تیار کی جائے: محسن نقوی
ماہرین کا تجزیہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ بگرام کی دوبارہ واپسی یا بحالی عملی طور پر پیچیدہ اور مہنگی ثابت ہو سکتی ہے، اس میں بڑے فوجی وسائل اور خطّے میں طویل مدت کے دفاعی انتظامات درکار ہوں گے۔
ٹرمپ کا سابقہ موقف
واضح رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا کو بگرام ایئربیس کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے تھا اور اب اسے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے افغانستان سے مذاکرات جاری ہیں جبکہ آج صدر ٹرمپ نے افغانستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر بگرام ایئر بیس واپس نہ دی تو بہت برا ہوگا۔








