کراچی: 3 خواجہ سراؤں کی گولیاں لگی لاشیں برآمد، وزیر اعلیٰ نے قاتلوں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیدیا
تین خواجہ سراؤں کی گولیاں لگی لاشیں برآمد
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) – میمن گوٹھ سے 3 خواجہ سراؤں کی گولیاں لگی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آٹو ٹیون کے بغیر وہ گلوکارہ نہیں: آئمہ بیگ اور سارہ رضا کا ایک دوسرے سے سامنا، آٹو ٹیون کے استعمال کو ‘باعث شرم’ کیوں قرار دیا؟
واقعے کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق، کراچی میں ایم نائن میمن گوٹھ سے تین خواجہ سراؤں کی لاشیں ملی ہیں۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ انہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے اور لاشوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے پاکستان میں تعینات آئرلینڈ کی پہلی ریزیڈنٹ سفیر میری او نیل کی ملاقات
پولیس کی تحقیقات
پولیس کے مطابق، واقعے کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ تینوں خواجہ سراؤں کے پاس کوئی شناختی دستاویزات نہیں تھیں اور انہیں سر، سینے اور ہاتھوں پر گولیاں لگی ہیں۔ بظاہر، لگتا ہے کہ وہ سڑک کنارے لفٹ لینے کے لیے کھڑے تھے جب ملزم نے ان پر فائرنگ کی اور فرار ہوگیا۔ واقعہ کی جگہ ویران تھی اور تمام پہلوؤں پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یہ فرعون بادشاہ توتنخامون کا مدفن تھا،سیاحوں کی ایک لمبی قطار پہلے سے ہی موجود تھی، بڑے صبر اور سکون سے مقبرے کے اندر جانے کے منتظر تھے
وزیراعلیٰ کا نوٹس
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس کو قاتلوں کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں۔
خواجہ سراؤں کے حقوق
وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ خواجہ سراؤں کے قاتلوں کو ہر صورت گرفتار کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواجہ سراء معاشرے کا ایک مظلوم طبقہ ہیں جسے ہم سب نے عزت اور احترام دینا ہے اور ریاست کسی بھی مظلوم اور بے گناہ شہری کے قتل کو برداشت نہیں کرے گی۔








