امریکہ پر واضح کر دیا گیا ہے کہ افغانستان کی آزادی اور سالمیت ہر چیز سے زیادہ اہم ہے، افغان حکومت
افغان حکومت کا شدید ردعمل
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بگرام ائیر بیس واپس لینے کی دھمکی پر افغانستان کی حکومت نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: سری لنکن لیگ اسپنر ہسارانگا ایونٹ سے باہر ہو گئے
افغانستان کی خارجہ پالیسی
ترجمان افغان حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان اسلامی اصولوں، متوازن اور اقتصادی طور پر مبنی خارجہ پالیسی کی روشنی میں تمام ممالک کے ساتھ باہمی اور مشترکہ مفادات پر مبنی مثبت تعلقات کی خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بابر اعظم کے لیے کس بیٹنگ پوزیشن پھر کھیلنا بہتر ہے؟ تجربہ کار بیٹر محمد یوسف نے بتا دیا۔
آزادی اور سالمیت کی اہمیت
بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام دو طرفہ مذاکرات میں امریکہ پر واضح کر دیا گیا ہے کہ افغانستان کی آزادی اور سالمیت ہر چیز سے زیادہ اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی ایجنسیز بھارتی پراکسیز کا خاتمہ کرکے دم لیں گی، عطا تارڑ
دوحہ معاہدے کے وعدے
ترجمان کے مطابق دوحہ معاہدے میں امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ افغانستان کی علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے خلاف طاقت یا دھمکیوں کا استعمال نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی جائے گی، اس لیے انہیں اپنے وعدوں پر قائم رہنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی؛ 3کروڑ سے زائد مالیت کے 60 آئی فون سمگلنگ کیس میں ملزم کو 6سال قید کی سزا
ماضی کے تجربات سے سیکھنا
ترجمان کا کہنا تھاکہ ماضی کے ناکام تجربات کو دہرانے کے بجائے معقول اور حقیقت پسندانہ حل اپنایا جائے۔
ٹرمپ کی دھمکیاں
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو افغانستان کی بگرام ائیر بیس نہیں چھوڑنی چاہیے تھی، ہم بگرام ائیر بیس واپس لیں گے اور اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان نے بگرام ائیر بیس امریکا کو واپس نہ دی تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔








