کوئی فلسطینی ریاست نہیں بنے گی، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے اعلان پر نیتن یاہو کا ردعمل
اسرائیلی وزارت خارجہ کا بیان
تل ابیب(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی جانب سے فلسطینی ریاست کو یکطرفہ تسلیم کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: سجل علی نے اپنی شادی سے متعلق خبروں پر خاموشی توڑ دی
نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ایک بار پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی فلسطینی ریاست نہیں بنے گی، مغربی کنارے میں یہودی آبا داری کے اقدامات جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں صاحبزادہ فرحان نے اہم اعزاز حاصل کرلیا
امریکہ سے واپسی کا ردعمل
نیتن یاہو نے کہا کہ ان کی امریکہ سے واپسی پر اسرائیل کی جانب سے ردعمل دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پوری دنیا میں آئس کریم مہنگی کیوں ہو رہی ہے؟
مقبول اعلان پر تنقید
اسرائیلی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل برطانیہ اور کچھ دیگر ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کے یکطرفہ اعلان کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔ یہ اعلان امن قائم کرنے کے بجائے خطے کو مزید غیر مستحکم کرتا ہے اور مستقبل میں پرامن حل کے امکانات کو نقصان پہنچائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارت کے 7 جہاز مار گرائے اور 25 اہداف کو انگیج کیا : ایئر مارشل ریٹائرڈ ارشد ملک
مذاکرات اور مفاہمت کے اصول
اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام مذاکرات اور دونوں فریقوں کے درمیان کسی مفاہمت کے تمام اصولوں کے منافی ہے اور مطلوبہ امن کے امکانات کو مزید کم کردے گا۔
بے بنیاد مطالبات کی مخالفت
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ اسرائیل کسی بھی ایسے بے بنیاد اور خیالی متن کو قبول نہیں کرے گا جو اسے ناقابلِ دفاع سرحدوں کو تسلیم کرنے پر مجبور کرے۔








