کوئی فلسطینی ریاست نہیں بنے گی، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے اعلان پر نیتن یاہو کا ردعمل
اسرائیلی وزارت خارجہ کا بیان
تل ابیب(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی جانب سے فلسطینی ریاست کو یکطرفہ تسلیم کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکارہ شیفالی زری والا کی موت پر مفتی طارق مسعود کا بیان وائرل
نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ایک بار پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی فلسطینی ریاست نہیں بنے گی، مغربی کنارے میں یہودی آبا داری کے اقدامات جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مقتول ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے والد کا بیان بھی سامنے آگیا۔
امریکہ سے واپسی کا ردعمل
نیتن یاہو نے کہا کہ ان کی امریکہ سے واپسی پر اسرائیل کی جانب سے ردعمل دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں جاسوسی کے الزام میں 10غیر ملکی گرفتار
مقبول اعلان پر تنقید
اسرائیلی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل برطانیہ اور کچھ دیگر ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کے یکطرفہ اعلان کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔ یہ اعلان امن قائم کرنے کے بجائے خطے کو مزید غیر مستحکم کرتا ہے اور مستقبل میں پرامن حل کے امکانات کو نقصان پہنچائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی آئی خان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 13 بھارتی سپانسرڈ دہشتگرد ہلاک
مذاکرات اور مفاہمت کے اصول
اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام مذاکرات اور دونوں فریقوں کے درمیان کسی مفاہمت کے تمام اصولوں کے منافی ہے اور مطلوبہ امن کے امکانات کو مزید کم کردے گا۔
بے بنیاد مطالبات کی مخالفت
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ اسرائیل کسی بھی ایسے بے بنیاد اور خیالی متن کو قبول نہیں کرے گا جو اسے ناقابلِ دفاع سرحدوں کو تسلیم کرنے پر مجبور کرے۔








