کوئی فلسطینی ریاست نہیں بنے گی، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے اعلان پر نیتن یاہو کا ردعمل
اسرائیلی وزارت خارجہ کا بیان
تل ابیب(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی جانب سے فلسطینی ریاست کو یکطرفہ تسلیم کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے
نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ایک بار پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی فلسطینی ریاست نہیں بنے گی، مغربی کنارے میں یہودی آبا داری کے اقدامات جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیاں تیز اور خاص طور پر کسانوں کی مدد کرنےکی ضرورت ہے، یوسف رضا گیلانی
امریکہ سے واپسی کا ردعمل
نیتن یاہو نے کہا کہ ان کی امریکہ سے واپسی پر اسرائیل کی جانب سے ردعمل دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: والد کے انتقال کا سن کر بھی لوگوں کو ہنساتا رہا، شکیل صدیقی نے اپنی زندگی کے سب سے مشکل لمحے سے پردہ اٹھا دیا۔
مقبول اعلان پر تنقید
اسرائیلی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل برطانیہ اور کچھ دیگر ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کے یکطرفہ اعلان کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔ یہ اعلان امن قائم کرنے کے بجائے خطے کو مزید غیر مستحکم کرتا ہے اور مستقبل میں پرامن حل کے امکانات کو نقصان پہنچائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی برآمدات میں 13.45 فیصد اضافہ ریکارڈ
مذاکرات اور مفاہمت کے اصول
اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام مذاکرات اور دونوں فریقوں کے درمیان کسی مفاہمت کے تمام اصولوں کے منافی ہے اور مطلوبہ امن کے امکانات کو مزید کم کردے گا۔
بے بنیاد مطالبات کی مخالفت
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ اسرائیل کسی بھی ایسے بے بنیاد اور خیالی متن کو قبول نہیں کرے گا جو اسے ناقابلِ دفاع سرحدوں کو تسلیم کرنے پر مجبور کرے۔








