کراچی کے پوڈکاسٹر علی قاسم نے ٹیمو کے ذریعے اپنے خواب کو حقیقت میں بدلا دیا
کراچی کے پوڈکاسٹر کی کامیابی
کراچی (ویب ڈیسک) کراچی کے ایک مقامی پوڈکاسٹر، علی قاسم، نے اپنے شوق کو ٹیمو (Temu) کی وسیع مارکیٹ پلیس کی مدد سے نہ صرف آسان بنایا بلکہ اپنے پلیٹ فارم کے ہزاروں سامعین تک رسائی بڑھا کر اسے ترقی کے سفر پر گامزن کردیا۔ تفصیلات کے مطابق، علی قاسم، 37 سالہ، ایک مارکیٹنگ ایجنسی چلاتے ہیں اور اپنے مصروف شیڈول کے باوجود الگ سے پوڈکاسٹنگ کا شوق رکھتے ہیں۔ ان کا یوٹیوب چینل اب تقریباً دو ہزار سبسکرائبرز تک پہنچ چکا ہے، جس سے انہیں مزید تخلیقی مواد تیار کرنے کی ہمت افزائی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ سے منظور شدہ 27ویں آئینی ترمیم کی قومی اسمبلی میں منظوری کل لی جائے گی،وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کاجلد 28ویں ترمیم کا عندیہ
پوڈکاسٹنگ کا چیلنج
پہلے، علی قاسم کو اپنے پوڈکاسٹ کے لیے گھر سے دور کرائے کے اسٹوڈیوز میں جانا پڑتا تھا، جہاں فی گھنٹہ ریکارڈنگ کے دس سے پندرہ ہزار روپے ادا کرنے پڑتے تھے، جبکہ ایڈیٹنگ چارجز الگ ہوتے تھے۔ ایک شو کو ریکارڈ کرنے کے لیے اسٹوڈیو میں تین سے چار گھنٹے لگ جاتے تھے، لیکن ان کی پریشانی کا ایک بڑا سبب طویل سفر کے دوران ٹریفک جام میں پھنس جانے پر قیمتی وقت کا ضیاع تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی آرمی چیف کی ہندو روحانی پیشوا سے ملاقات” فوج اور مذہب کا خطرناک امتزاج ”، غیرجانبداری پر سوالات اٹھنے لگے، ویڈیو بھی سامنے آ گئی۔
حل کی تلاش
آخرکار، علی قاسم نے اپنی پریشانیوں کا حل نکالنے کے لئے جائزہ لینا شروع کیا۔ انہیں احساس ہوا کہ یہ سب کچھ گھریلو سیٹ اپ کے ذریعے بھی ممکن ہے۔ انٹرویوز کے لیے وہ اب بھی پروفیشنل اسٹوڈیوز استعمال کرتے ہیں، لیکن سنگل اپیسوڈز وہ گھر سے ہی ریکارڈ کر سکتے ہیں۔ اس کام کے لئے انہیں اعلیٰ معیار کے سامان کی ضرورت تھی۔ انہوں نے بہترین معیار کے سامان کے حصول کے لئے آن لائن اور آف لائن آپشنز کا جائزہ لیا اور انہیں معلوم ہوا کہ عالمی پلیٹ فارم ٹیمو پر تمام سامان باآسانی دستیاب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شیکھر دھون کے ساتھ اکثر مقامات پر دکھائی دینے والی پراسرار خاتون کون ہے؟ آخر کا حقیقت سامنے آ گئی
ٹیمو پر خریداری
علی قاسم نے ڈیلی پاکستان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ "ٹیمو پر بہترین معیار کا وسیع سامان تھا، پروفیشنل نوعیت کے سامان سے لے کر چھوٹے آئیٹمز تک، سب کچھ چند کلکس کی دوری پر دستیاب تھا، اور مجھے ادھر اُدھر چیزوں کو تلاش کرنے کے لئے وقت ضائع نہیں کرنا پڑا کیونکہ یہ سب سامان ٹیمو پر نہایت آسانی سے حاصل ہورہا تھا۔ "
یہ بھی پڑھیں: اہلیہ اور بیٹی کو قتل کرنے والے ڈی ایس پی عثمان حیدر 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
گھریلو اسٹوڈیو کا قیام

علی قاسم کو ٹیمو سے موصول ہونے والا پوڈکاسٹ کا سامان۔
یہ بھی پڑھیں: بل گیٹس اپنے 200 ارب ڈالر کہاں خرچ کریں گے؟ اعلان کر دیا
عالمی رجحانات اور پاکستان میں ترقی
ان کا فیصلہ عالمی رجحان سے بھی ہم آہنگ ہے۔ ای مارکیٹر کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں پوڈکاسٹ کے سامعین کی تعداد تقریباً 584.1 ملین تک پہنچ جائے گی، جو سال 2024 کے مقابلے میں تقریباً 6.8 فیصد اضافہ ہے۔ پاکستان میں بھی پوڈکاسٹنگ انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور سال کے آخر تک اس کا حجم 80 ملین امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی پی ایل کے دوران چہل، مہوش میں قربتیں بڑھنے لگیں، ویڈیو وائرل
نئے سامان کی خریداری
علی نے اپنا ہوم اسٹوڈیو بنانے کے لئے ٹیمو سے اسٹینڈ کے ساتھ مائیکروفون کٹ، آڈیو مکسنگ سسٹم، ہائی کوالٹی ہیڈفونز، ویڈیو لائٹنگ، اور اسٹوڈیو کی خوبصورتی و سجاوٹ کے لیے مختلف آئٹمز آرڈر کئے۔ ان سب کی مجموعی لاگت اس رقم سے بھی کم رہی جو وہ ایک کرائے کے اسٹوڈیو میں مختلف ریکارڈنگ سیشن پر خرچ کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پختونخوا حکومت نے یکم سے قبل تنخواہوں کی ادائیگی پر پابندی لگادی
موصولہ سامان کا تجربہ
علی قاسم کو یہ تمام سامان صاف ستھری بہترین پیکنگ اور اعلیٰ معیار کے ساتھ موصول ہوا، اور جلد ہی انکا کمرہ ایک جدید اور تخلیقی ورک اسپیس میں بدل گیا۔ پہلی بار انہیں اپنے شیڈول، تخلیقی مواد اور ریکارڈنگ سے متعلق مکمل کنٹرول حاصل ہوا۔ اب وہ جب چاہیں، اپنی سہولت کے ساتھ اور وقت ضائع کئے بغیر ریکارڈنگ کر سکتے ہیں، اس سیٹ اپ نے انہیں اپنے سامعین کے ساتھ بہتر رابطہ قائم کرنے اور اپنے کام میں وسعت لانے کا موقع دیا ہے.
یہ بھی پڑھیں: کئی بار ایسا ہوتا کہ وہ اپنی دنیا میں اتنے گم ہوتے کہ لاکھ آوازیں دو ہاتھ سے ہلاؤ مگر وہ جہاں پہنچے ہوتے وہاں سے دنیاوی بات یا آواز سنائی ہی نہیں دیتی تھی۔
نئی آمدن کے ذرائع

علی قاسم کو ٹیمو سے پوڈکاسٹ کے لئے موصول ہونے والا ہائی کوالٹی مائیک موجود ہے۔ حال ہی میں، پوڈکاسٹ سے انکی آمدن کا بھی آغاز ہوگیا ہے۔ جو کام پہلے صرف ایک مہنگا شوق تھا، وہ اب ایک باقاعدہ سائیڈ بزنس کی شکل اختیار کر رہا ہے جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے اور وہ اپنے مشغلے کے لئے زیادہ بہتر انداز سے سرمایہ کاری کررہے ہیں.
مستقبل کے ارادے
علی قاسم نے کہا، "میرا اگلا ہدف یہ ہے کہ اپنے مواد کے معیار کو مزید بہتر کروں۔ گھر پر پروفیشنل سیٹ اپ کے ساتھ، اب میں زیادہ معیاری مواد تخلیق کر سکتا ہوں، زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کرسکتا ہوں، اور اپنے شوق کو ایک بڑے خواب میں بدل سکتا ہوں۔"








