وکیل کا کام ہوتا ہے جج کو بکری سے شیر بنانا، اگر کوئی جج بکری بنا ہو تو اس کو شیر بنا دیں، جسٹس محسن اختر کیانی کا وکیل سے دلچسپ مکالمہ
اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ میں ممبر بورڈ آف ریونیو کے فیصلے کیخلاف کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی کا وکیل درخواست گزار سے دلچسپ مکالمہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی چھت……اپنا گھر، 15 دن میں مکانوں کی تعمیر شروع، وزیراعلیٰ مریم نواز خود معائنہ کرنے پہنچ گئیں
دلچسپ مکالمہ
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وکیل کا کام ہوتا ہے جج کو بکری سے شیر بنانا، اگر کوئی جج بکری بنا ہو تو اس کو شیر بنا دیں۔ نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ سماعت ہوئی، جس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل درخواست گزار سے دلچسپ بات چیت کی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی اے پی کی طرف سے دبئی میں 5ویں سی ایف او کانفرنس کا انعقاد، مالیاتی اداروں کے درمیان تعاون پر زور دیا جائے، اشفاق تولہ
سول کورٹ میں کیس منتقل کرنے کی تجویز
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ اپنا کیس سول کورٹ لے جائیں، سول کورٹ کا دائرہ اختیار بڑا ہے۔ سول جج ڈی سی کو توہین عدالت نوٹس کرکے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھیج سکتا ہے۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہمارے کیس میں ڈی سی کے وکیل نے سول جج کو کہا کہ یہ آپ کا دائرہ اختیار نہیں۔
درست جج کی اہمیت
جسٹس محسن اختر کیانی نے بیان دیا کہ وکیل کا کام ہوتا ہے کہ جج کو بکری سے شیر بنائیں۔ اگر صحیح جج تعینات ہوں گے تو ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تک چیزیں ٹھیک ہو جائیں گی۔








