پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی اور جیل خانہ جات کے ڈیٹا انٹیگریشن کے ثمرات سامنے آنے لگے
پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی کا ڈیٹا انٹیگریشن
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی اور جیل خانہ جات کے ڈیٹا انٹیگریشن کے ثمرات سامنے آنے لگے۔
یہ بھی پڑھیں: آر ایل کے گروپ آئی ٹی ایف ماسٹرز چیمپئن شپ 2024 کا افتتاح
جرائم کے خاتمے کا مشن
تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا انٹیگریشن کی مدد سے جرائم کے خاتمے اور ملزمان کے جلد تعین کے مشن پر عملدرآمد کر رہا ہے۔ حال ہی میں پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی اور محکمہ جیل خانہ جات کی ڈیٹا انٹیگریشن کی گئی جس کی وجہ سے جیل آنے والے تمام ملزمان و مجرمان کے فنگر پرنٹس اور تصاویر کو مربوط انداز میں محفوظ کیا جا رہا ہے۔ اس ڈیٹا انٹیگریشن کے ثمرات بھی سامنے آ رہے ہیں اور اب تک فرانزک سائنس ڈیٹابیس کی مدد سے 240 مقدمات میں ملزمان کا تعین کر لیا گیا ہے۔ پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی کے پاس 4 لاکھ 40 ہزار قیدیوں کے فنگر پرنٹس کا ڈیٹا بیس موجود ہے اور ہر روز پنجاب کی جیلوں سے نئے قیدیوں کا ڈیٹا بھی سسٹم کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 14 اگست کو یہ مجھے گرفتار بھی کرتے ہیں تو کرلیں، میں ضمانت نہیں کرواؤں گی، علیمہ خان
پریزن افسران کی تربیت
مزید مجرمان کے فنگر پرنٹس کو درست انداز میں ڈیٹا بیس کا حصہ بنانے کے لیے فرانزک سائنس اتھارٹی میں پریزن افسران کی تربیت کا انعقاد کیا گیا۔ اس کی اختتامی تقریب میں سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے خصوصی شرکت کی۔ آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر، ڈی جی فرانزک سائنس اتھارٹی ڈاکٹر محمد امجد، ڈائریکٹر ایڈمن وقار احمد اور متعلقہ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی میں محکمہ جیل خانہ جات کے افسران کو قیدیوں کے فنگر پرنٹس اور تصاویر محفوظ کرنے کے حوالے سے تربیت دی گئی۔ پنجاب بھر کی جیلوں سے آئے 120 افسران کو فرانزک سائنس اتھارٹی کے افسران نے تربیت دی۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کا ایران جنگ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ
سیکرٹری داخلہ کی گفتگو
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کا کہنا تھا کہ پنجاب کی تمام جیلوں سے قیدیوں کے فنگر پرنٹس روزانہ فرانزک سائنس اتھارٹی کو موصول ہوتے ہیں۔ فنگر پرنٹس کے ساتھ ملزمان و مجرمان کی تین سمت سے واضح تصاویر بھی لی جاتی ہیں۔ اب تک اس ڈیٹا بیس کی مدد سے سنگین جرائم جیسا کہ قتل، ڈکیتی، ریپ اور راہزنی کے 240 اندھے کیسز کو ٹریس کیا جا چکا ہے۔ اس تربیتی سیشن کا مقصد قیدیوں کا ریکارڈ جمع کرتے ہوئے درپیش مسائل کو حل کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بنگلہ دیش ٹی 20 سیریز کے شیڈول میں ردوبدل
جیلوں کی سیکیورٹی اور اصلاحات
سیکرٹری داخلہ پنجاب نے بتایا کہ پنجاب کی جیلوں کو ٹیکنالوجی ہب بنا رہے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جیلوں کو مزید محفوظ کر رہے ہیں۔ قیدیوں کو معاشرے کا مفید رکن بنانے کے لیے ان کی اصلاح کے اقدامات کیساتھ جرائم کی بیخ کنی پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے۔
تربیتی سیشن کی کامیابی
سیکرٹری داخلہ نے کامیابی سے تربیت مکمل کرنے والوں میں اسناد تقسیم کیں اور بعد ازاں فرانزک سائنس اتھارٹی کی نو تعمیر شدہ ٹریننگ لیبارٹری و بلڈنگ کا دورہ بھی کیا۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب نے ہدایت کی کہ اس ٹریننگ لیب کو پاکستان بھر کے طلباء اور نوجوانوں سائنسدانوں کی تربیت کیلئے بھرپور انداز میں استعمال کیا جائے۔








