اس سال لیسکو کو بجلی چوری کی کتنی شکایات موصول ہوئیں اور کتنی ریکوری کی گئی؟ اہم تفصیلات جانیے
بجلی چوری کی شکایات: 2025-26 کا جائزہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) رواں برس لیسکو کو بجلی چوری کی کتنی شکایات موصول ہوئیں اور کتنی ریکوری کی گئی؟ اس حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ایوب کے مستعفی ہونے کے بعد انکی جماعت کمزور ہو چکی تھی، پرانے مسلم لیگی اکابرین پاکستان کونسل مسلم لیگ میں مجتمع ہو چکے تھے۔
وزیرِاعظم کی قیادت اور سخت کارروائیاں
تفصیلات کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی خصوصی ہدایات اور چیف ایگزیکٹو لیسکو انجینئر محمد رمضان بٹ کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بجلی چوروں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں۔ لیسکو نے پولیس اور رینجرز کے تعاون سے موصول ہونے والی بجلی چوری کی شکایات پر فوری اور سخت ایکشن لے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ اس نتیجے پر پہنچ گئی کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کو روکنا ناممکن، قومی حکومت کی طرف بڑھا جائے: اسد طور
شکایات کا مجموعہ اور کارروائیاں
مالی سال 2025-26 یکم جولائی سے اب تک لیسکو کو مجموعی طور پر 15 ہزار 97 بجلی چوری کی شکایات موصول ہوئیں جن میں گھریلو 14,371، کمرشل 494، زرعی 195، صنعتی 37 شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں رواں سال پولیو کا 21 واں کیس رپورٹ
قانونی کارروائیاں اور گرفتاریوں کی تعداد
لیسکو کی جانب سے 14 ہزار 956 ایف آئی آرز کے اندراج کی درخواستیں کی گئیں جن میں سے 9 ہزار 828 ایف آئی آرز درج ہوئیں۔ کارروائی کے دوران 219 بجلی چور گرفتار کیے گئے۔ مزید برآں 2 کروڑ 19 لاکھ 25 ہزار سے زائد یونٹس پر مشتمل بجلی چوری پکڑی گئی جس پر 75 کروڑ 12 لاکھ 12 ہزار سے زائد یونٹس کے ڈٹیکشن بلز جاری کیے گئے جبکہ بجلی چوروں سے 19 کروڑ 55 لاکھ 32 ہزار روپے سے زائد کی ریکوری عمل میں لائی گئی۔
چیف ایگزیکٹو لیسکو کی بیان
چیف ایگزیکٹو لیسکو انجینئر محمد رمضان بٹ نے بجلی چوروں کے خلاف حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لیسکو میں بجلی چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ہم نے فیلڈ آپریشنز، پولیس اور رینجرز کے تعاون سے بجلی چوری میں نمایاں کمی اور ریکوری میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجلی چور نہ صرف قومی وسائل کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ ایماندار صارفین کے ساتھ زیادتی کے مرتکب بھی ہیں۔ لیسکو ایسے عناصر کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہا ہے۔








