وزیر اعلیٰ مریم نواز کا بہاولنگر کے فِلڈ ریلیف کیمپ میں صنعت زار مرکز کا دورہ، خواتین سے خوشگوار موڈ میں گفتگو، بچوں کو تحائف پیش کیے
وزیراعلیٰ پنجاب کا دورہ بہاولنگر
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بہاولنگر میں ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ فلڈ ریلیف کیمپ پہنچ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویسٹ انڈیز نے سکاٹ لینڈ کو آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شکست دے دی
بچوں کے والدین سے ملاقات
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے فلڈ ریلیف کیمپ میں پیدا ہونے والے بچوں کے والدین سے ملاقات کی، مبارکباد اور بہت سی دعائیں دیں۔ فلڈ ریلیف کیمپ میں پیدا ہونے والے بچے کا نام نواز شریف اور بچی کا نام مریم رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی ایئرشو میں بھارتی طیارے کی تباہی پر شاہد آفریدی کا ردعمل بھی آگیا
صنعت زار centro کی وزٹ
وزیر اعلیٰ نے فلڈ ریلیف کیمپ میں صنعت زار مرکز کا دورہ کیا۔ انہوں نے سلائی کڑھائی کرنے والی خواتین سے خوشگوار موڈ میں گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹر سیف اللہ ابڑو کا نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے بدعنوان اور کرپٹ افسران کو ڈی چوک میں لٹکانے کا مطالبہ
سلائی اور کڑھائی کی مہارت
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے سلائی مشین پر کپڑے کی سلائی کی اور فریم میں لگے کپڑے پر سوئی سے کڑھائی بھی کی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں کرسمس کی رات خوش نصیب شخص نے 1.8 ارب ڈالر کی لاٹری جیت لی
متاثرین سے ملاقات اور تحائف
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے فلڈ ریلیف کیمپ میں سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اور سہولتوں کی فراہمی بارے دریافت کیا۔ انہوں نے بچوں کے ساتھ اظہار شفقت کیا اور تحائف پیش کیے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران سے کشیدگی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کرنے پر غور کر رہے ہیں، ٹرمپ
بچوں کی خوشیاں
وزیر اعلیٰ سے ملنے پر معصوم بچوں نے اظہار مسرت کیا اور پنسل سے بنے سکیچ پیش کیے۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی فضاء، پانی اور زمین کو آئندہ نسلوں کیلئے محفوظ بنانے میں ہاتھ بٹائیں، وزیراعلیٰ مریم نواز کی اپیل
صحت کے اقدامات
ڈی جی پی ڈی ایم اے اور ڈی سی بہاولنگر نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ سیلاب سے بہاولنگر کی 26 یونین کونسل اور ایک لاکھ سے زائد آبادی متاثر ہوئی ہے اور 20 فلڈ ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بغیر گھی اور تیل کے بکرے/گائے کا مزیدار گوشت بنانے کا طریقہ جانیں؟
جانی نقصان اور امدادی کارروائیاں
سیلاب متاثرین کیلئے ہیلتھ کاؤنٹر، کلینک آن ویل، اور موبائل ہیلتھ یونٹ قائم کیا گیا ہے۔ 40,000 سے زائد سیلاب متاثرین کا علاج کیا گیا ہے۔
حفاظتی تدابیر
منہ کھر کی بیماری سے بچاؤ کے لئے 37 لاکھ 70 ہزار چھوٹے بڑے جانوروں کی ویکسی نیشن کی گئی ہے اور بفر زون قائم کیے گئے ہیں۔









