زیرک سیاستدان ہیں کبھی لوز شاٹ نہیں کھیلتے، سیاست اور عملی زندگی کی اونچ نیچ سے خوب واقف ہیں بلکہ اونچے نیچے راستے کے ماہر کھلاڑی ہیں
مصنف کی شناخت
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 297
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں شناختی کارڈ کی بنیاد پر گاڑیوں کی نمبر پلیٹس سے متعلق پراونشل موٹر وہیکل ترمیمی ایکٹ 2024 نافذ
صاحب کی شخصیت
”صاحب؛“ صاحب خاندانی آدمی ہیں۔ سمجھدار، پڑھے لکھے، خوش لباس، خوش گفتار۔ انہیں معلوم ہے کہ کس سے، کب، کہاں کیا بات کرنی ہے۔ وضع دار انسان ہیں جس کی گواہی ان کے مخالفین بھی دیتے ہیں۔ عزت کرتے اور احترام پاتے ہیں۔ زیرک سیاست دان ہیں کبھی لوز شاٹ نہیں کھیلتے۔ سیاست اور عملی زندگی کی اونچ نیچ سے خوب واقف ہیں بلکہ اس اونچے نیچے راستے کے ماہر کھلاڑی ہیں۔ راز کو راز رکھنا جانتے ہیں اور دوستوں کے اعتماد پر پورا اترتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک کے نومنتخب میئر زہران ممدانی کے اثاثے کتنے ہیں؟
یادگار نصیحتیں
مجھے انہوں نے دو باتیں سمجھائی تھیں۔ پہلی؛ زندگی میں ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ دوسرا؛ یاد رکھیں عورت مرد کی 3 باتوں پر مر مٹتی ہے۔:
- پہلی: اس کی طاقت یعنی اختیار
- دوسری: اس کی دولت
- تیسری: شکل و صورت
میں نے دونوں ہی باتیں پلے باندھ لی تھیں۔ پرویز الٰہی صاحب سے ان کی انتہائی قربت تھی اور دونوں کا تعلق ”گوڑی“ سہیلیوں جیسا تھا جن سے کوئی بات بھی مخفی نہیں ہوتی۔ میں نے سیاست دانوں میں ایسا اعتماد کم کم ہی دیکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے 21 لاکھ گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں، آصفہ بھٹو زرداری
راجہ لال خان کا تعارف
یہ ہے مختصر تعارف راجہ لال خان کے پرنس آف ویلز، گارڈن کالج کے گریجوئیٹ، پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کے ڈگری ہولڈر، سابق چیئرمین ضلع کونسل راولپنڈی، پنجاب کے وزیر قانون، بلدیات و پبلک پراسیکیوشن محمد بشارت راجہ کا۔
یہ بھی پڑھیں: رنگ روڈ پر ABS Developers نے ایک اور ٹاور کی تعمیر شروع کر دی، بحریہ رنگ روڈ انٹرچینج سے صرف 10 سیکنڈ کی دوری پر
سیاسی حیثیت
پنجاب میں ان کی حیثیت نائب وزیر اعلیٰ کی سی تھی۔ چیف منسٹر ملک سے باہر جاتے تو صوبے کا انتظام صاحب کے حوالے کر جاتے۔ واپسی پر کچھ حاسد لوگ سی ایم سے شکایت کرتے کہ ”آپ کے بعد تو راجہ صاحب خود کو سی ایم ہی سمجھتے ہیں۔“ سی ایم مسکرا دیتے۔
یہ بھی پڑھیں: سپر ٹیکس کیس، آئینی عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا
پرویز الٰہی کی ٹیم
پرویز الٰہی کی ایک بات جو مجھے بے حد پسند تھی؛ ”ان کی ٹیم میں افسر شاہی کے بہترین دماغ تھے اور وہ خود کو ان کی معیت میں بڑا comfortable محسوس کرتے تھے۔“ میں نے دیکھا کہ بہت سے سیاست دان اپنے ساتھ نالائق لوگوں کو رکھتے تاکہ ان کی اپنی ذہانت چھپی رہے۔ مگر اس کے برعکس پرویز الٰہی صاحب کے ساتھ شاندار اور قابل افسروں کی ٹیم تھی۔ ان کے سیاسی مخالف بھی مانتے تھے کہ ان کی ٹیم بہترین تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ٹیم نے دنیا کی بہترین ٹیم کو شکست دے کر برتری ثابت کردی: وزیر اعلیٰ مریم نواز
تشہیر کی کمزوری
پرویز الٰہی کی ایک کمزوری یہ تھی کہ انہوں نے جتنے اچھے کام کئے ان کی تشہیر مناسب طور پر نہ کر سکے۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے پی آر ٹیم (پبلک ریلیشن) کمزور تھی جس کا سربراہ بنیادی طور پر فوٹوگرافر تھا۔ اس کام کو سنبھالنے کی نہ وہ اہلیت رکھتا تھا نہ ہی قابلیت۔
یہ بھی پڑھیں: صائم ایوب نے برائن لارا کا 31سالہ ریکارڈ توڑ دیا
سیاست دانوں کے تجربات
ہاں، ان پانچ سالوں میں سیاست دانوں کو میں نے بہت قریب سے دیکھا۔ ان پانچ سالوں کے تجربے کا نچوڑ یہ جملہ ہے;
”سیاست کے کھلاڑی جو کہتے ہیں کرتے نہیں اور جو کرتے ہیں کہتے نہیں۔“
اس ملک ایک المیہ اور بھی ہے؛”سبھی با اختیار لوگوں کا ضمیر بے اختیار ہو کر ہی جاگتا ہے۔“ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








