معروف ٹیچر مبین شاہ نے پنجاب یونیورسٹی میں لیکچر کے دوران پیش آنیوالا ناخوشگوار واقعہ شیئر کردیا، جمعیت سے اساتذہ کو ہراساں نہ کرنے کا مطالبہ
تعلیمی ماحول میں ناخوشگوار واقعہ
لاہور (ویب ڈیسک) معروف ٹیچر مبین شاہ جو فیس بک پر "انگش ود مبین" کے نام سے پیج چلا رہے ہیں، نے پنجاب یونیورسٹی میں لیکچر کے دوران پیش آنے والا ناخوشگوار واقعہ شیئر کردیا۔ انہوں نے جمعیت سے اساتذہ کو ہراساں نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور چین کی مشترکہ فوجی مشق واریئر8 کا آغاز
لیکچر کے دوران مداخلت
اپنے پیج پر تفصیلات شیئر کرتے ہوئے مبین شاہ نے بتایاکہ "میرا لیکچر عروج پر تھا کہ دروازے سے ایک شخص بغیر اجازت اندر آگیا اور کہنے لگا ایک اعلان کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ لیکچر ختم ہوگا پھر آجائیے گا۔ میرے لیکچر کا ٹیمپو ٹوٹ جاتا ہے تو یہ سنتے ہی اس شخص نے بحث شروع کر دی اور مجھے ہی کہنے لگا کہ آپ نے اتنا وقت بحث میں ضائع کر دیا۔"
یہ بھی پڑھیں: India’s ₹25 Toilet Tax Sparks Outrage
یونیورسٹی کا ماحول
انہوں نے کہا کہ "مجھے ایک لمحے کے لیے لگا کہ میں پاکستان کی نمبر 1 یونیورسٹی میں نہیں بلکہ محلے کے کسی ٹیوشن سینٹر میں پڑھا رہا ہوں جہاں کوئی بھی ساجھا ماجھا اٹھ کر اعلان کرنے آجائے گا۔"
یہ بھی پڑھیں: قاسم اور سلیمان کی آمد کا باب بند، پی ٹی آئی کی ٹوٹ پھوٹ نئی انتہا کی طرف جا رہی ہے، نئے سیکرٹری جنرل کے لیے کئی نام سامنے آ گئے: صالح ظافر کا تجزیہ
اساتذہ کی محنت اور تعلیم
مبین شاہ نے مزید لکھا کہ "یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹس انتہائی محنت سے قابل اساتذہ ڈھونڈتے ہیں۔ پڑھانا میرا شوق ہے اور انٹرنیٹ پر بھی 1000 سے زیادہ وڈیوز ریکارڈ کر چکا ہوں۔ مجھ پر مختلف ڈیپارٹمنٹس میں لیکچر لینے والے تقریباً 400 طلباء کا بوجھ ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: کبیروالا، ایک ماہ سے لاپتہ خاتون کی لاش اپنے ہی گھر سے برآمد
جمعیت کا رویہ
انہوں نے ماضی کی ایک کہانی شیئر کرتے ہوئے لکھاکہ "پچھلے سمسٹر میں کسی کارکن نے ایک طالب علم کے نمبر بڑھانے کی سفارش کی، جسے میں نے نظرانداز کر دیا۔ مگر حالیہ واقعے نے مجھے یہ تحریر لکھنے پر مجبور کیا۔"
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی وفد کا بھارت کے دورہ پر، آگرہ قلعہ اور تاج محل کا ایک دن کا سفر
پیشکش کا اثر
انہوں نے کہا کہ "اس واقعے کا میرے طلباء پر بھی گہرا نفسیاتی اثر ہوا ہے۔ کیا یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ اس سارے واقعے کو دیکھنے والے کسی طالب علم پر یہ اثر ہو کہ وہ بھی کسی بھی کلاس میں گھس کر استاد کو کہے کہ 'لیکچر بند کر، اسی اعلان کرنا اے'؟"
استادوں کی حفاظت کی درخواست
آخری طور پر انہوں نے جمعیت کے کارکنان سے گزارش کی کہ "اساتذہ کو اس طرح ہراساں کرنا بند کیا جائے۔"








