جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان کے ویڈیو لنک ٹرائل اور ہوم ڈیپارٹمنٹ نوٹیفکیشن کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج کر دیا گیا۔
راولپنڈی میں قانونی چیلنج
راولپنڈی (سٹاف رپورٹر) 9 مئی، جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمران خان کے ویڈیو لنک ٹرائل اور ہوم ڈیپارٹمنٹ نوٹیفکیشن کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے امریکی و اسرائیلی اہداف پر حملے، 7 ایئر بیسز اور ٹیک کمپنیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
درخواست گزار کا موقف
سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ کی جانب سے درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف ٹرائل لازمی ہے، واٹس ایپ اور ویڈیو لنک ٹرائل میں وکلاء اپنے کلائنٹ سے مشاورت نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: سکیورٹی خدشات، گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے نمبر کے حوالے سے بہت بڑی فیصلہ
عدالت سے استدعا
عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ ویڈیو لنک ٹرائل غیر قانونی و غیر آئینی ہے لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جائے جبکہ واٹس اِیپ لنک سے جو بھی کارروائی بیان ریکارڈ ہوئے وہ بھی کالعدم قرار دیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے پنجاب کے تین دریاؤں میں ایمرجنسی الرٹ جاری کر دیا
جیل ٹرائل کی اہمیت
درخواست گزار کے مطابق جیل ٹرائل میں ملزم، وکلاء اور فیملی موجود ہوتی ہے جبکہ مشاورت بھی ہو سکتی ہے لیکن ویڈیو لنک اور واٹس اِیپ ٹرائل شفاف ٹرائل رولز کا قتل ہے۔ ارجنٹ نوعیت کے قانونی نکات ہیں، پٹیشن کی جلد سماعت کی جائے۔
مزید درخواستیں
درخواست میں استدعا کی گئی کہ شفاف ٹرائل کے لیے ملزم عمران خان کو جیل سے عدالت پیش کرنے کا حکم دیا جائے، نصف ٹرائل جیل سماعت میں ہوچکا بقیہ ٹرائل بھی اوپن جیل سماعت حکم دیا جائے۔








