کراچی، 3 خواجہ سرائوں کے قتل کی تحقیقات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں۔
کراچی میں خواجہ سراؤں کے قتل کی تحقیقات
کراچی (آئی این پی) میں اتوار کو میمن گوٹھ کے علاقے میں تین خواجہ سراؤں کے قتل کی تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ پولیس سرجن نے انکشاف کیا ہے کہ تینوں مقتولین بائیولوجیکل میل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس کل دوپہر 11:30 بجے طلب، 39نکاتی ایجنڈا پیش
تفتیشی ٹیم کی کوششیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیمیں ملزمان کی شناخت اور قتل کے محرکات جاننے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے، جس میں ایک مقتول کو ہفتہ کی رات تقریباً ساڑھے آٹھ بجے کے قریب وہاں چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس غلام نبی میمن نے بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں رواں برس کاروکاری کی رسم کتنی زندگیاں نگل گئی۔ اہم تفصیلات جانیے۔
وزیر شرجیل میمن کا بیان
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ ایک انفرادی واقعہ ہے اور محرکات کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کسی بھی صورت ملزمان کو نہیں چھوڑے گی۔ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں اتوار کی رات مقتولین کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
پوسٹ مارٹم کی تفصیلات
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا کہ تینوں کو گولیاں لگی تھیں۔ 28 سے 30 سالہ مقتول جیال کو چار گولیاں لگیں، جن میں ایک سر پر لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔ دوسرے مقتول ایلیکس ریاضت مسیح کو سینے میں ایک گولی لگی، جبکہ تیسرے مقتول 17 سے 18 سالہ یونس کو سینے اور بازو پر گولیاں لگیں۔ ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا کہ تینوں خواجہ سرا بائیولوجیکل میل تھے، جبکہ پوسٹ مارٹم سے 20 سے 22 گھنٹے قبل ان کی موت واقع ہوئی تھی۔








