جوڈیشل ورک سے روکنے کا معاملہ، جسٹس طارق جہانگیری نے 26 ستمبر تک اپیل فکس کرنے کی درخواست کردی۔
اسلام آباد میں جوڈیشل ورک سے روکنے کا معاملہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جوڈیشل ورک سے روکنے کے معاملے پر جسٹس طارق جہانگیری نے کیس کی جلد سماعت کے لیے متفرق درخواست دائر کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں 1400 سے زائد وٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف
درخواست کی تفصیلات
درخواست میں استدعا کی گئی کہ 26 ستمبر تک کے رواں عدالتی ہفتے میں اپیل فکس کی جائے۔ جسٹس طارق نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ فوری مداخلت کرے تاکہ وہ جوڈیشل ورک شروع کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور جج جوڈیشل ورک سے روکنے کا حکم انہیں سنے بغیر دیا گیا، اور ان کے خلاف ہائیکورٹ میں دائر کی گئی رٹ کے قابل سماعت ہونے کا تعین کیے بغیر انہیں جوڈیشل ورک سے روکا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بچوں کی لڑائی میں بڑے کود پڑے، 19سالہ نوجوان چھریوں کے وار سے جاں بحق
قبولیت کے خطرات
درخواست میں موقف دیا گیا کہ جج کو کام سے روکنے کا حکم برقرار رہا تو اس سے مقدمہ بازی کا ایک نیا سیلاب امڈ آئے گا۔ کسی جج کے خلاف اگر کوئی شکایت زیر التوا ہو تو اس کی بنیاد پر کسی بھی جج کے خلاف درخواست آجائے گی کہ انہیں جوڈیشل ورک سے روکا جائے۔
نئی درخواست کا مقصد
جسٹس طارق جہانگیری نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ ایسے واقعات روکنے کے لیے فوری مداخلت کرے، اور اپیل اسی ہفتے سماعت کے لیے مقرر کی جائے۔








