سیلاب زدگان کی مدد کے لیے وزیر اعلیٰ ریلیف کارڈ بنے گا تاکہ کسی کو لائن میں نہ لگنا پڑے، وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری
سیلاب زدگان کی مدد کے لئے وزیر اعلیٰ ریلیف کارڈ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے وزیر اعلیٰ ریلیف کارڈ بنے گا تاکہ کسی کو لائن پر نہ لگنا پڑے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک قانون کے تحت بنا تھا۔ ہر چیز پر سیاست اچھی نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: دسمبر میں محمد بن زاید کے بڑے استقبال کی تیاری تھی لیکن وہ ایئرپورٹ سے چلے گئے، پروفیسر اشتیاق کا انکشاف
پنجاب میں سیلاب کی صورتحال
ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کی ٹیم ہر وقت سیلاب میں عوام کی خدمت کرتی نظر آتی ہیں۔ پہلے آپ نے کبھی ایسا نہیں دیکھا ہوگا، پنجاب کا کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں سیلاب آیا اور وزیراعلیٰ پنجاب نہ گئی ہوں۔ وزیر اعلیٰ اور ان کی ٹیم نے مزدوروں کی طرح سیلاب میں کام کیا، ہمارے پی ڈی ایم اے افسر عبدالرحمان کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وفات پاگئے، پتوکی کے اے سی فرحان احمد بھی وفات پا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک کا درجنوں بچوں پر مشتمل “لشکر” بنانے کا منصوبہ، جاپانی خاتون کو اپنا نطفہ بھیج دیا، تہلکہ خیز انکشاف
متاثرین کی تعداد اور امدادی اقدامات
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب کے 7 ہزار 794 موضع جات متاثر ہوئے، 26 لاکھ افراد متاثر ہوئے، 21 لاکھ مویشی متاثر ہوئے۔ سیلاب 25 اور 26 اگست کے قریب آیا تھا اور اب بھی سیلاب جاری ہے۔ ابتدائی سروے کرلیے گئے ہیں، 59 لاکھ افراد ان سائیڈ فلڈ سے متاثر ہوئے، 16 لاکھ افراد آؤٹ سائیڈ فلڈ سے متاثر ہوئے، تین دریاؤں نے پنجاب کے مختلف ڈسٹرکس کو ہٹ کیا، 27 کے قریب شہر متاثر ہوئے، 2ہزار 213 ٹیمیں فیلڈ میں کام کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ای سی او ممالک کے اعلیٰ سطحی وفد کا شالیمار گارڈن سمیت دیگر تاریخی مقامات کا دورہ
کسانوں کی امداد
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کاشت کاروں کا نقصان ہوا ہے۔ بیس ہزار روپے فی ایکڑ کسان کو دیا جائے گا، جس کا پورا گھر گرا اس کو 10 لاکھ اور جس کے گھر کو نقصان ہوا 5 لاکھ، جبکہ گائے اور بھینس کے نقصان پر 5 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ یہ سب پنجاب حکومت کے اپنے پیسے ہیں اور کسی سے مدد نہیں مانگی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فضائی حدود بند، بھارتی ایئر لائنز کو اب تک کتنا نقصان ہو چکا ہے؟ جانیے
ترقیاتی کام اور وفاقی حکومت کی معاونت
ان کا کہنا تھا کہ پورے پنجاب میں کہیں کوئی ترقیاتی کام نہیں رُک رہا۔ اپنی چھت اپنا گھر میں 80 ہزار گھر زیر تعمیر ہیں، دسمبر تک اس کی تعداد ایک لاکھ تک جائے گی۔ دوسری طرف سیلابی سیاست بھی کی جارہی ہے۔ سیلاب کے سارے مرحلے میں وفاقی حکومت اور این ڈی ایم اے ہمارے ساتھ رہا۔ اگر وفاق معاونت کرنا چاہے تو ان کی مہربانی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: شہری نے خود کو گولی مار کر الزام سسر پر لگا دیا
سیلاب سے سیاسی اثرات
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بلاول بھٹو نے وزیر اعلی پنجاب کی تعریف کی، چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے جنوبی پنجاب کے آپریشن کو اپنی طرف سے دیکھا۔ بہت ساری باتیں ہماری طرف سے بھی آسکتی ہیں کہ پچھلی مرتبہ سیلاب آیا تھا تو آپ نے تیاری کیوں نہیں کی؟
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعہ، لیفٹیننٹ کرنل دھونی کو “ٹوئٹ” نہ کرنا مہنگا پڑگیا، بھارتیوں نے سابق کپتان کو نشانے پر رکھ لیا۔
ریلیف کارڈ اور پانی کے وسائل کی حفاظت
انہوں ںے کہا کہ وزیر اعلی کا ریلیف کارڈ بنے گا تاکہ کسی کو لائن پر نہ لگنا پڑے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک قانون کے تحت بنا تھا۔ یہ بسیں پنجاب کے عوام کی خدمت کے لئے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شاہد آفریدی نے بھارتی میڈیا کو کارٹون نیٹ ورک قرار دے دیا
ماحولیاتی چیلنجز اور بھارتی اثرات
انہوں نے کہا کہ پنجاب کو اپنے پانی کو بچانے کے لئے اگر ڈیم بنانے پڑتے ہیں تو ضرور بنانے چاہئیں۔ اسموگ کے لئے آن اینڈ آف کا بٹن نہیں ہوتا۔ ہماری ماحولیات کی ٹیم ایس او پیز پر عمل کروارہی ہیں۔ بھارتی پنجاب میں فصلیں جلائی جارہی ہیں، وہاں پر انڈیکس خراب ہوتا ہے تو ہمارا بھی انڈیکس خراب ہوتا ہے۔
دوسروں سے سیکھنے کی ضرورت
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سارے پاکستان کو ان سے عقل لینے کی ضرورت ہے جنھوں نے سندھ کو آثار قدیمہ بنادیا ہے۔ یہ کہتے ہیں بارش کم ہوتی تو باہر نکلیں گے، ہم بارش کم ہونے کا انتظار نہیں کرتے۔








