حسان نیازی کی ملٹری کسٹڈی میں تحویل اور کورٹ مارشل کی کارروائی کیخلاف درخواست پر اعتراضات سے متعلق فیصلہ محفوظ
لاہور ہائیکورٹ میں درخواست کی سماعت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کی ملٹری کسٹڈی میں تحویل اور کورٹ مارشل کی کارروائی کیخلاف درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے اعتراضات سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریکِ انصاف کو احتجاج اور مظاہروں کا رویہ ترک کر کے اب سیاسی سمجھداری اور سنجیدگی دکھانا ہوگی، ناز بلوچ
عدالت کے سامنے دلائل
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔ پنجاب حکومت کے وکیل راؤ اورنگزیب نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹرار آفس کی جانب سے لگائے گئے اعتراضات درست ہیں، درخواست گزار نے مصدقہ نقول کیلئے کوئی درخواست نہیں دی، آرمی ادارے کیخلاف درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایسوسی ایشن دبئی میں متحدہ عرب امارات کا 54 واں “عید الاتحاد” منایا گیا
حسان نیازی کے وکیل کا موقف
وکیل حسان نیازی فیصل صدیقی کا کہنا ہے کہ حسان نیازی کی کسٹڈی ملٹری کو ایس ایچ او کی جانب سے دی گئی ہے، باقی لوگ جو ملٹری کے حوالے کئے گئے وہ اے ٹی سی کورٹ کے آرڈر کے تحت ہوئے، رجسٹرار آفس کے اعتراضات درست نہیں، عدالت اعتراضات ختم کرے۔
یہ بھی پڑھیں: کون کیا کر رہا ہے، کون ڈیوٹی کر رہا ہے اور کون نہیں، میں اپنی ٹیم سے مسلسل رابطے میں ہوں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا صوبے کی بیوروکریسی کو پیغام
فیصلہ محفوظ
بعدازاں لاہور ہائیکورٹ نے اعتراضات ختم کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
چیلنج کی تفصیلات
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بھانجے حسان نیازی نے ملٹری تحویل میں لینے کے نوٹیفکیشن اور کورٹ مارشل کارروائی کو چیلنج کر رکھا ہے۔








