ٹرمپ نے مغربی ممالک کے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی مخالفت کردی
ٹرمپ کا یو این خطاب
نیو یارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں روس کو سخت اقتصادی پابندیوں کی دھمکی دی اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی عالمی کوششوں کو مسترد کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست گجرات کی عدالتوں کو بم دھماکوں سے اڑانے کی دھمکیاں، سیکیورٹی ہائی الرٹ
باقاعدہ عالمی رہنماؤں کی پیروی
جنوری میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے یو این خطاب میں ٹرمپ نے درجنوں عالمی رہنماؤں سے خطاب کیا، جن میں سے اکثر امریکہ کی روایتی اتحادی پالیسیوں سے ہٹ کر "امریکہ فرسٹ" ایجنڈے پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چترال: 68 ہزار ڈالر میں لائسنس حاصل کرنے والا روسی باشندہ مارخور کا شکار کرنے میں کامیاب
روسی پابندیاں
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اتحادی ممالک نے یوکرین جنگ ختم کرانے کے لیے روس پر یکساں تجارتی اقدامات نہ کیے تو امریکہ یکطرفہ طور پر ماسکو پر مزید ٹیرف عائد کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 15 فروری کے بعد پنجاب اسمبلی کے گھیراؤ اور دیگر آپشن کا اعلان کریں گے: حافظ نعیم الرحمان
مشرق وسطی کی صورتحال
مشرق وسطیٰ کے حوالے سے انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی مخالفت کی اور زور دیا کہ اس وقت ترجیح یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی ہونی چاہیے، جنہیں حماس نے 2023 کے حملے میں قید کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ: ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی رہائی کے لیے دائر درخواستیں خارج
اقوام متحدہ پر تنقید
ٹرمپ نے اقوام متحدہ پر اپنی امن کوششوں کی حمایت نہ کرنے کا الزام بھی لگایا اور سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کی وکالت کی۔ خطاب کے دوران انہوں نے یو این کی عمارت اور اپنے ٹیلے پرامپٹر کی خرابی پر طنزیہ انداز میں مذاق بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: قوم کو خوشی منانی چاہیے ، پاکستان اشتعال انگیزی نہیں چاہتا، امن کا خواہاں ہے: صدر مملکت
پہلے ممالک کی مخالفت
انہوں نے مغربی ممالک کے ان فیصلوں کی شدید مخالفت کی، جنہوں نے حالیہ دو دنوں میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔ ان ممالک میں فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال شامل ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایسے اقدامات "حماس کے سنگین مظالم" کو انعام دینے کے مترادف ہیں۔
یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ
امریکی صدر نے زور دیا کہ تمام یرغمالیوں کو، چاہے وہ زندہ ہوں یا ہلاک، ان کی فوری رہائی عمل میں لائی جائے اور غزہ کی جنگ کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔








