اگر ٹرمپ نوبیل امن انعام چاہتے ہیں تو انہیں غزہ جنگ ختم کرانی ہوگی، فرانسیسی صدر
میکرون کا ٹرمپ کے نوبیل امن انعام پر تبصرہ
نیو یارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صرف اسی صورت میں نوبیل امن انعام حاصل کرسکتے ہیں اگر وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان غزہ میں جاری تنازع ختم کروائیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں لڑکی سے ملنے آئی آشنا کے پکڑے جانے پر ساتھیوں کی فائرنگ سے لڑکی ہی زخمی ہوگئی
ٹرمپ کا نوبیل انعام کا مطالبہ
خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سب سمجھتے ہیں کہ مجھے نوبیل انعام ملنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بسنت مریم نواز کا مریم نواز کو چیلنج ہے اور چیلنج یہ ہے کہ بسنت خونی نہ ہو، اس پر ہلاکتیں نہ ہوں، صحافی نجم ولی خان
میکرون کا جواب
نیویارک میں فرانسیسی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں میکرون سے ٹرمپ کی اس خواہش کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں صدر ٹرمپ نے دنیا کی سات جنگیں رُکوانے کا ذکر کیا، لیکن نوبیل امن انعام صرف تب ممکن ہے جب آپ اس تنازع کو ختم کریں۔ اس کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ضروری ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بند کرے، اس کے لیے صرف سیاسی ارادے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مہنگی ترین ہیوی بائیکس اب کروڑوں میں نہیں صرف لاکھوں میں خریدیں، ایک سے بڑھ کر ایک۔۔۔
غزہ کا تنازع اور ہتھیاروں کی فراہمی
فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ ہی غزہ کی جنگ بند کرواسکتے ہیں، کیونکہ ہم اسرائیل کو وہ ہتھیار فراہم نہیں کرتے جو غزہ میں جنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ غزہ میں جنگ کے لیے ہتھیار اور آلات امریکا فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کے اہل خانہ کی سہولت کے لیے فری شٹل سروس کا آغاز
اسرائیل کی پابندیاں اور جواب
ایک سوال کے جواب میں ایمانویل میکرون کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے پر فرانس پر پابندیاں عائد کرتا ہے تو وہ اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر غزہ میں جنگ جاری رہتی ہے اور اسرائیلی فوج شہریوں کا قتل جاری رکھتی ہے تو ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔
اسرائیل کا مستقبل
فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے پاس اب کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے اور اگر اسرائیل کا منصوبہ اپنے ہمسائے کو تباہ کرنا ہے تو وہ اپنے لوگوں کو ہمیشہ کی جنگ میں جھونک رہا ہے۔








