اگر ٹرمپ نوبیل امن انعام چاہتے ہیں تو انہیں غزہ جنگ ختم کرانی ہوگی، فرانسیسی صدر
میکرون کا ٹرمپ کے نوبیل امن انعام پر تبصرہ
نیو یارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صرف اسی صورت میں نوبیل امن انعام حاصل کرسکتے ہیں اگر وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان غزہ میں جاری تنازع ختم کروائیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے خلاف جنگ میں فیلڈ مارشل نے میری مشاورت سے فیصلے کیے، وزیر اعظم
ٹرمپ کا نوبیل انعام کا مطالبہ
خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سب سمجھتے ہیں کہ مجھے نوبیل انعام ملنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں 16 جنوری تک توسیع
میکرون کا جواب
نیویارک میں فرانسیسی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں میکرون سے ٹرمپ کی اس خواہش کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں صدر ٹرمپ نے دنیا کی سات جنگیں رُکوانے کا ذکر کیا، لیکن نوبیل امن انعام صرف تب ممکن ہے جب آپ اس تنازع کو ختم کریں۔ اس کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ضروری ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بند کرے، اس کے لیے صرف سیاسی ارادے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں 10سالہ گھریلو ملازم کو بستر پر پیشاب کرنے پر تشدد کا نشانہ بنانے کا مقدمہ درج، گرفتار ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
غزہ کا تنازع اور ہتھیاروں کی فراہمی
فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ ہی غزہ کی جنگ بند کرواسکتے ہیں، کیونکہ ہم اسرائیل کو وہ ہتھیار فراہم نہیں کرتے جو غزہ میں جنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ غزہ میں جنگ کے لیے ہتھیار اور آلات امریکا فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال، پاکستان کی فضائی حدود سے اوور فلائنگ میں اضافے سے لاکھوں ڈالرز کی آمدن متوقع
اسرائیل کی پابندیاں اور جواب
ایک سوال کے جواب میں ایمانویل میکرون کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے پر فرانس پر پابندیاں عائد کرتا ہے تو وہ اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر غزہ میں جنگ جاری رہتی ہے اور اسرائیلی فوج شہریوں کا قتل جاری رکھتی ہے تو ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔
اسرائیل کا مستقبل
فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے پاس اب کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے اور اگر اسرائیل کا منصوبہ اپنے ہمسائے کو تباہ کرنا ہے تو وہ اپنے لوگوں کو ہمیشہ کی جنگ میں جھونک رہا ہے۔








