مسلم رہنماؤں سے ملاقات کامیاب رہی: ٹرمپ کی اسلامی مملکت کے سربراہان سے ملاقات کے بعد گفتگو
نیویارک میں ملاقات
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلامی ملکوں کے سربراہان سے ملاقات کی۔ یہ تقریباً 50 منٹ جاری رہی، جس میں غزہ سمیت مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر کاجل اور ان کی شاگرد نوجوان لڑکیوں نے علامہ اقبال کی مشہور نظم ”سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا“ پر کلاسیکل رقص کا مظاہرہ کیا
شرکاء کی فہرست
اس ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف کے علاوہ ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، قطر اور انڈونیشیا کے سربراہان بھی شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: جیکب آباد؛ریلوے ٹریک پر دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 4بوگیاں پٹری سے اتر گئیں
ملاقات کے نتائج
ملاقات کے بعد جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مسلم رہنما ہال سے باہر نکلے تو اس دوران وہ بغیر گفتگو کے روانہ ہوگئے۔ تاہم کچھ دیر بعد ٹرمپ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسلم رہنماؤں سے ملاقات کو انتہائی کامیاب قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ غزہ کے بارے میں ان کی عظیم رہنماؤں کے ساتھ یہ بہت اچھی اور کامیاب ملاقات رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد؛ الائیڈ ہسپتال کی او پی ڈی کے باہر فائرنگ، 2 بھائیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
خطاب اور جنگ بندی کا ارادہ
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کے علاوہ تمام بڑے پلئرز سے ان کی یہ ملاقات بہت کامیاب رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی اسرائیلی رہنما سے بھی ملاقات ہوگی، اور میرے خیال میں ہم غزہ کے لیے کچھ اقدام کرسکتے ہیں۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی صدر ٹرمپ کی مسلم رہنماؤں سے ملاقات کو بہت مفید قرار دیا۔
میٹنگ کے آغاز پر، امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم غزہ کی جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں اور اسے ختم کرکے رہیں گے، ممکن ہے کہ یہ ابھی ختم کردی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاك فوج کی میزائل اسٹرائیک، ایل او سی پر دودنیال سیکٹر میں دشمن کی پوسٹ اڑا دی
معاملات کی وضاحت
مسلم رہنماؤں سے ملاقات سے قبل امریکی صدر نے قوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ کچھ ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رہے ہیں، لیکن فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا حماس کو مظالم کا انعام دینے کے برابر ہوگا۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی واپسی چاہتے ہیں، حماس سے 38 یرغمالیوں کی لاشیں بھی واپس چاہییں۔
اخباری رپورٹ
صدر ٹرمپ نے خطاب میں دعویٰ کیا کہ حماس نے امن کی پیش کش کو مسترد کیا اور جو لوگ امن چاہتے ہیں انہیں یرغمالیوں کی رہائی کی کوشش کرنی چاہیے۔
یاد رہے کہ امریکی میڈیا نے اس ملاقات کے حوالے سے رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ امریکا چاہتا ہے کہ عرب اور مسلم ممالک غزہ میں فوجیں بھیجیں تاکہ اسرائیل انخلا کرسکے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکا یہ چاہتا ہے کہ عرب اور مسلم ممالک فلسطین میں اقتدار کی منتقلی کے عمل اور بحالی کے کاموں کے لیے رقوم بھی فراہم کریں۔








