ٹرمپ اقوام متحدہ اجلاس میں بھی پاک بھارت جنگ بندی کا ذکر کرنا نہ بھولے
نیویارک میں امریکی صدر کا خطاب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں عالمی رہنماؤں کے سامنے پاک بھارت جنگ بندی کا ذکر چھیڑ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: درخت پر شکار کیا گیا ریچھ اوپر گرنے سے شکاری کی موت ہوگئی
امریکہ کی عالمی عزت
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق جنرل اسمبلی سے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھاکہ امریکا کو عالمی منظرنامے پر ایک بار پھر عزت و تکریم مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال پہلے امریکا شدید مشکلات کا شکار تھا، مگر اب غیرقانونی طور پر داخل ہونے والوں کے راستے بند ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برازیل کے سابق صدر مجرم قرار، 27 سال قید کی سزا کا اعلان
پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی کوششیں
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی قائم کروائی اور پاکستان اور بھارت کی طرف سے 7 جنگوں کو روکا۔ یہ تمام جنگیں ان ممالک کے قائدین سے بات چیت کرکے روکی گئیں، اور اس میں اقوام متحدہ کا ساتھ شامل نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: صائمہ قریشی نے طلاق کے تلخ تجربے پر خاموشی توڑ دی
اقوام متحدہ کی اصلاحات کی ضرورت
ان کا کہنا تھا کہ انہیں سوچتا ہے اقوام متحدہ کو بنانے کا مقصد کیا تھا، اور وہ اقوام متحدہ میں اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جنگ بندی کے موقع پر اقوام متحدہ کہاں تھی؟ جنگیں ختم کرانے کے لئے اقوام متحدہ سے ایک فون کال بھی موصول نہیں ہوئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اقوام متحدہ اپنی استعداد کار کے مطابق کام نہیں کررہی۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار کی ’’پراپیگنڈہ فیکٹریاں‘‘ سرگرم، صدر ٹرمپ کو نشانے پر لے لیا
غزہ اور فلسطینی ریاست
ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی ہونی چاہیے، اور فلسطین کو تسلیم کرنا حماس کے لیے زبردست انعام ہوگا۔ انہوں نے حماس سے کہا کہ تمام یرغمال اسرائیلیوں کو رہا کرنا ہوگا۔ اگرچہ حماس نے امن کی مناسب پیش کشوں کو مسترد کیا، مگر فلسطینی ریاست کا قیام حماس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی بینچ نے سابق وفاقی محتسب توہین عدالت کیس میں نوٹس جاری کردیئے
روس سے تجارت پر تنقید
انہوں نے روس سے تجارت پر چین، بھارت اور یورپ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ روس سے تیل خرید کر بھارت اور چین یوکرین روس جنگ کو ہوا دے رہے ہیں۔ یورپ کو روس سے توانائی کی تمام خریداریاں فوری روک دینی چاہئیں، ورنہ روس پر بہت بھاری ٹیرف لگائے جائیں گے۔
نوبیل انعام کی خواہش
آخر میں انہوں نے کہا کہ سب سمجھتے ہیں کہ انہیں نوبیل انعام ملنا چاہیے۔








