ٹرمپ اقوام متحدہ اجلاس میں بھی پاک بھارت جنگ بندی کا ذکر کرنا نہ بھولے
نیویارک میں امریکی صدر کا خطاب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں عالمی رہنماؤں کے سامنے پاک بھارت جنگ بندی کا ذکر چھیڑ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: دیونیکا تریپاٹھی اور وویک دہیا کی طلاق کی افواہیں، اداکار نے صورتحال واضح کردی
امریکہ کی عالمی عزت
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق جنرل اسمبلی سے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھاکہ امریکا کو عالمی منظرنامے پر ایک بار پھر عزت و تکریم مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال پہلے امریکا شدید مشکلات کا شکار تھا، مگر اب غیرقانونی طور پر داخل ہونے والوں کے راستے بند ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ
پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی کوششیں
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی قائم کروائی اور پاکستان اور بھارت کی طرف سے 7 جنگوں کو روکا۔ یہ تمام جنگیں ان ممالک کے قائدین سے بات چیت کرکے روکی گئیں، اور اس میں اقوام متحدہ کا ساتھ شامل نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں شوہر نے چھریوں کے وار کر کے بیوی کو قتل کر دیا،ملزم فرار
اقوام متحدہ کی اصلاحات کی ضرورت
ان کا کہنا تھا کہ انہیں سوچتا ہے اقوام متحدہ کو بنانے کا مقصد کیا تھا، اور وہ اقوام متحدہ میں اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جنگ بندی کے موقع پر اقوام متحدہ کہاں تھی؟ جنگیں ختم کرانے کے لئے اقوام متحدہ سے ایک فون کال بھی موصول نہیں ہوئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اقوام متحدہ اپنی استعداد کار کے مطابق کام نہیں کررہی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی ایچ اے لاہور ٹینس چیمپئن شپ: مینز سنگلز میں ٹاپ سیڈ ہارون زاہد کی شاندار شروعات
غزہ اور فلسطینی ریاست
ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی ہونی چاہیے، اور فلسطین کو تسلیم کرنا حماس کے لیے زبردست انعام ہوگا۔ انہوں نے حماس سے کہا کہ تمام یرغمال اسرائیلیوں کو رہا کرنا ہوگا۔ اگرچہ حماس نے امن کی مناسب پیش کشوں کو مسترد کیا، مگر فلسطینی ریاست کا قیام حماس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی کیسے ہوئی؟ بھارت سے کون امریکہ اور سعودی عرب سے مدد مانگنے بھاگا؟ تہلکہ خیز دعویٰ
روس سے تجارت پر تنقید
انہوں نے روس سے تجارت پر چین، بھارت اور یورپ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ روس سے تیل خرید کر بھارت اور چین یوکرین روس جنگ کو ہوا دے رہے ہیں۔ یورپ کو روس سے توانائی کی تمام خریداریاں فوری روک دینی چاہئیں، ورنہ روس پر بہت بھاری ٹیرف لگائے جائیں گے۔
نوبیل انعام کی خواہش
آخر میں انہوں نے کہا کہ سب سمجھتے ہیں کہ انہیں نوبیل انعام ملنا چاہیے۔








