وزیراعظم کی صدر ورلڈ بینک سے ملاقات، ترقیاتی شراکت داری پر تبادلہ خیال
وزیراعظم شہباز شریف اور ورلڈ بینک کے صدر کی ملاقات
نیو یارک(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بنگا سے ملاقات ہوئی جس میں اصلاحاتی ایجنڈے اور ترقیاتی شراکت داری سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم اے نے پنجاب میں گرمی کی شدت میں اضافے کا الرٹ جاری کردیا، درجہ حرارت میں معمول سے 6 سے 8 ڈگری تک اضافے کا امکان
ورلڈ بینک کی حمایت کی تعریف
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم نے ورلڈ بینک کو زیادہ مؤثر اور تیز تر ترقیاتی شراکت دار میں تبدیل کرنے پر اجے بنگا کی قیادت کو سراہا اور کورونا وبا اور 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کے لیے ورلڈ بینک کی معاونت کو قابل قدر قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین سے زائد کرایہ وصول کرنے والے نجی کشتی مالکان گرفتار، مریم نواز کا پیغام
حکومتی اصلاحاتی ایجنڈا
شہباز شریف نے عالمی بینک کے صدر کو حکومت کے جامع اصلاحاتی ایجنڈے سے آگاہ کیا جس میں وسائل کے مؤثر استعمال، توانائی کے شعبے کی اصلاحات، نجکاری اور موسمیاتی تبدیلی سے بچاؤ کے اقدامات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی نے نوجوانوں کے لیے بڑا اعلان کردیا
معاشی استحکام کی راہ
ان کا کہنا تھا کہ یہ اصلاحات پاکستان کو معاشی استحکام، سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وہاب ریاض کو فی الحال کوئی نئی ذمہ داری نہیں سونپی جارہی، ترجمان پی سی بی کی وضاحت
نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا اعلان
وزیراعظم نے ورلڈ بینک کے نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (2035-2026) کو بھی سراہا جس کے تحت پاکستان کے لیے 40 ارب امریکی ڈالر کی تاریخی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا ہے، انہوں نے اس کے مؤثر نفاذ کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے قریبی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔
ورلڈ بینک کے صدر کا مثبت ردعمل
صدر ورلڈ بینک اجے بنگا نے پاکستان کے اصلاحاتی اقدامات کو مثبت قرار دیتے ہوئے ترقیاتی ایجنڈے، اقتصادی اصلاحات اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف طویل المدتی اقدامات میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔








