ڈاکٹر شاہد صدیق قتل کیس: ملزم کی ضمانت منظوری کا تحریری فیصلہ جاری
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما ڈاکٹر شاہد صدیق قتل کیس میں گرفتار ملزم شاہد ندیم کی ضمانت منظوری کا فیصلہ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا یورپی یونین سے بھارت اور چین پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کا مطالبہ
تحقیقات کا پس منظر
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے 2 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ مدعی کے وکیل نے کہا کہ ملزم کا کریمنل ریکارڈ ہے اس کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے، وکیل کے مطابق ملزم نے 7 ماہ پہلے بھی ڈاکٹر شاہد صدیق پر حملہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نعمان اعجاز کی باوضو اداکاری سے متعلق اپنے بیان پر وضاحت
عدالتی فیصلے کی تفصیلات
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ یہ معاملہ مزید انکوائری کا ہے، ملزم کے وکیل نے کہا کہ اس پر فائرنگ کرنے کا الزام نہیں ہے، عدالت ملزم کی 5 لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک میں ‘پاکستانی ہوٹل’: 220 ملین ڈالر کی قیمت اور ٹرمپ کے بھارتی مشیر کا اعتراض
قتل کی تفصیلات
یاد رہے کہ اگست 2024 میں پی ٹی آئی رہنما شاہد صدیق کے بیٹے نے باپ کو قتل کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی وجہ بھی بتائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان، بھارت وکلاء انجمنوں کو قانون کی طاقت بھی استعمال کرنی چاہیے، سفید پتلون اور گلابی شرٹ میں ملبوس بزرگ نے بتایا وہ کرکٹ کے پرانے سیوک ہیں
ملزمان کی گرفتاری
ڈی آئی جی آرگنائزڈ کرائم یونٹ عمران کشور نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ شاہد صدیق کے قتل میں ملوث شوٹر کو گرفتار کر لیا گیا، قتل میں مقتول کا بیٹا محمد قیوم بھی ملوث ہے۔ قتل میں ملوث ملزمان میں نوازش علی، محمد سجاد، محمد شاہد اور ثقلین اسلم شامل ہیں جبکہ مقتول کے بیٹے محمد قیوم نے معمولی رنجش پر باپ کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شجاع آباد ٹریفک حادثے میں 2 بھائیوں سمیت 4 افراد جاں بحق، وزیراعلی مریم نواز کا اظہار تعزیت
قتل کی منصوبہ بندی
محمد قیوم نے شوٹرز سے 4 کروڑ روپے میں باپ کو قتل کرانے کی ڈیل کی تھی، قتل میں ملوث تمام شوٹرز کو گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کیا گیا تھا۔
واقعہ کی تاریخ
2 اگست کو پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں فائرنگ سے ڈاکٹر شاہد صدیق جاں بحق ہوگئے تھے۔








