ڈاکٹر شاہد صدیق قتل کیس: ملزم کی ضمانت منظوری کا تحریری فیصلہ جاری
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما ڈاکٹر شاہد صدیق قتل کیس میں گرفتار ملزم شاہد ندیم کی ضمانت منظوری کا فیصلہ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بہادر قبائل قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں میں افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، شاہد آفریدی
تحقیقات کا پس منظر
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے 2 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ مدعی کے وکیل نے کہا کہ ملزم کا کریمنل ریکارڈ ہے اس کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے، وکیل کے مطابق ملزم نے 7 ماہ پہلے بھی ڈاکٹر شاہد صدیق پر حملہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، پاکستان اور سری لنکا ون ڈے سیریز میں 5500 اہلکاروں نے فول پروف سیکیورٹی فراہم کی
عدالتی فیصلے کی تفصیلات
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ یہ معاملہ مزید انکوائری کا ہے، ملزم کے وکیل نے کہا کہ اس پر فائرنگ کرنے کا الزام نہیں ہے، عدالت ملزم کی 5 لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس اڈیالہ جیل پہنچ گئی
قتل کی تفصیلات
یاد رہے کہ اگست 2024 میں پی ٹی آئی رہنما شاہد صدیق کے بیٹے نے باپ کو قتل کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی وجہ بھی بتائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سیف علی خان اور کرینہ کپور کی شادی اختتام کے قریب، معروف صحافی مبشر لقمان کا دعویٰ
ملزمان کی گرفتاری
ڈی آئی جی آرگنائزڈ کرائم یونٹ عمران کشور نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ شاہد صدیق کے قتل میں ملوث شوٹر کو گرفتار کر لیا گیا، قتل میں مقتول کا بیٹا محمد قیوم بھی ملوث ہے۔ قتل میں ملوث ملزمان میں نوازش علی، محمد سجاد، محمد شاہد اور ثقلین اسلم شامل ہیں جبکہ مقتول کے بیٹے محمد قیوم نے معمولی رنجش پر باپ کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عجیب سا گزر رہا ہے یہ نومبر۔۔۔
قتل کی منصوبہ بندی
محمد قیوم نے شوٹرز سے 4 کروڑ روپے میں باپ کو قتل کرانے کی ڈیل کی تھی، قتل میں ملوث تمام شوٹرز کو گرفتار کر کے آلہ قتل برآمد کیا گیا تھا۔
واقعہ کی تاریخ
2 اگست کو پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں فائرنگ سے ڈاکٹر شاہد صدیق جاں بحق ہوگئے تھے۔








