پٹوار سرکل میں نجی افراد کے کام کرنے کی خلاف کیس ؛ عدالت کی ڈپٹی کمشنر کو 7 روز میں متعلقہ آسامیاں پر کرنے کی ہدایت
عدالت کی ہدایت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد کے پٹوار سرکل میں نجی افراد کے کام کرنے کے خلاف کیس میں عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو 7 روز میں متعلقہ آسامیوں کو پر کرنے کی ہدایت کردی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پٹوار خانوں میں منشی بٹھا کر غیرقانونی کام ہو رہے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہر افسر کو توہین عدالت کا نوٹس دے کر کام کرایا جائے؟
یہ بھی پڑھیں: ہم شریف ہوں گے لیکن اتنے لاعلم نہیں کہ یہ سمجھ نہ سکے کہ ہمارے حق پر ڈاکہ کس نے ڈالا اور یہ غیر آئینی ترامیم کون لارہاہے، محمود خان اچکزئی
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، اسلام آباد کے پٹوار سرکل میں نجی افراد کے کام کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، جہاں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو 7 روز میں متعلقہ آسامیوں کو پر کرنے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے زرعی سائنسی شہر یانگ لنگ میں 300 کے قریب پاکستانی گریجویٹس کا خیرمقدم
حکم کی نافرمانی کی صورت میں عواقب
عدالت نے کہا کہ اگر آسامیوں کو پر نہ کیا گیا تو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو طلب کرنا پڑے گا۔ حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں عدالت ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ڈپٹی کمشنر پر برہم ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: عمارت تلے دبے ایک شخص کا اپنے عزیز و اقارب، ریسکیو حکام کو ٹیلی فون، مدد کی درخواست
عدالت کی تشویش
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایک سال سے یہی کہانیاں سنائی جا رہی ہیں، ایگزیکٹو نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ آپ نے یہ طے کر لیا ہے کہ کسی عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہیں کرنا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدارتی انتخاب: کیا ٹک ٹاک کملا ہیرس یا ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے؟
پٹوار خانوں کی حالت
جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ پٹوار خانوں میں منشی بٹھا کر غیرقانونی کام ہو رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ 32 کلومیٹر پر محیط شہر کی یہ حالت ہے اور عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سی ایس پی افسر ہیں اور ایک بات ان کو سمجھ نہیں آتی، جبکہ اٹارنی جنرل آفس، ایڈووکیٹ جنرل آفس، سٹیٹ کونسل کوئی بھی درست جواب نہیں دیتا۔
آسامیوں کی بھرتی کے اقدامات
جسٹس محسن اختر کیانی نے حکم دیا کہ 7 روز میں جتنی آسامیوں کو کلیئر کرائیں، اور کہا کہ ڈی سی ذاتی طور پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے ملکر بھرتی کے لئے اقدامات کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سول جج، ریونیو افسر کے پاس اختیار نہیں کہ معاملات درست کر سکے۔








