پٹوار سرکل میں نجی افراد کے کام کرنے کی خلاف کیس ؛ عدالت کی ڈپٹی کمشنر کو 7 روز میں متعلقہ آسامیاں پر کرنے کی ہدایت
عدالت کی ہدایت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد کے پٹوار سرکل میں نجی افراد کے کام کرنے کے خلاف کیس میں عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو 7 روز میں متعلقہ آسامیوں کو پر کرنے کی ہدایت کردی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پٹوار خانوں میں منشی بٹھا کر غیرقانونی کام ہو رہے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہر افسر کو توہین عدالت کا نوٹس دے کر کام کرایا جائے؟
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی صحت پر تشویش، میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست دائر
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، اسلام آباد کے پٹوار سرکل میں نجی افراد کے کام کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، جہاں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو 7 روز میں متعلقہ آسامیوں کو پر کرنے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے: یوسف رضا گیلانی
حکم کی نافرمانی کی صورت میں عواقب
عدالت نے کہا کہ اگر آسامیوں کو پر نہ کیا گیا تو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو طلب کرنا پڑے گا۔ حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں عدالت ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ڈپٹی کمشنر پر برہم ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: شادی کی تقریب میں فائرنگ، 20 سالہ نوجوان جاں بحق
عدالت کی تشویش
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایک سال سے یہی کہانیاں سنائی جا رہی ہیں، ایگزیکٹو نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ آپ نے یہ طے کر لیا ہے کہ کسی عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہیں کرنا۔
یہ بھی پڑھیں: سازش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوچکا، بہت سے فیصلے آنے ہیں: رانا مشہود
پٹوار خانوں کی حالت
جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ پٹوار خانوں میں منشی بٹھا کر غیرقانونی کام ہو رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ 32 کلومیٹر پر محیط شہر کی یہ حالت ہے اور عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سی ایس پی افسر ہیں اور ایک بات ان کو سمجھ نہیں آتی، جبکہ اٹارنی جنرل آفس، ایڈووکیٹ جنرل آفس، سٹیٹ کونسل کوئی بھی درست جواب نہیں دیتا۔
آسامیوں کی بھرتی کے اقدامات
جسٹس محسن اختر کیانی نے حکم دیا کہ 7 روز میں جتنی آسامیوں کو کلیئر کرائیں، اور کہا کہ ڈی سی ذاتی طور پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے ملکر بھرتی کے لئے اقدامات کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سول جج، ریونیو افسر کے پاس اختیار نہیں کہ معاملات درست کر سکے۔








