بلوچستان کا مسئلہ فوجی نہیں سیاسی طریقے سے حل کرنا ہوگا: بلاول بھٹو زرداری
بلوچستان کے مسئلے کا حل
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ فوجی نہیں سیاسی طریقے سے حل کرنا ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کے اولین سمارٹ گلاسز آئندہ سال متعارف کرائے جانے کا امکان
عوام کی شکایات اور دہشت گردی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کی شکایات اپنی جگہ ہیں، دہشت گردی کا مسئلہ سب سے بڑا مسئلہ ہے، بلوچستان کا حل سیاسی ہے، سیاسی اتفاق رائے سے ایسے فیصلے لینے پڑیں گے کہ عوام کا فائدہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: انٹربینک میں ڈالر سستا ہو گیا
بھارت کی دہشت گردی کی امداد
بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردوں کی مالی معاونت کر رہا ہے، بھارتی دہشت گردی کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھا رہے ہیں، ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیاب ہوئے، اب بھی ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ادھم پور ایئر فیلڈ کو تباہ کرنے کی وجہ بھی سامنے آ گئی
سیلاب کی تباہی اور امداد
انہوں نے کہا ہے کہ سیلاب سے پنجاب خصوصاً جنوبی پنجاب میں تاریخی نقصان ہوا ہے، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں بھی بہت نقصان ہوا ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے وفاقی حکومت متاثرہ علاقوں میں مدد فراہم کرے۔
ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ لوگوں کو فوری ریلیف پہنچانے کے لیے بی آئی ایس پی واحد پروگرام ہے، بروقت عالمی اپیل کرتے تو متاثرین کی زیادہ مدد کر سکتے تھے، ایسا کیوں نہیں ہو رہا یہ ہم سے نہیں وفاق سے پوچھیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا فیصلہ کہ قاسم اور سلمان ان کی رہائی کی تحریک کی قیادت کریں گے، بڑے اثرات ہوں گے: فواد چوہدری
وفاقی حکومت پر تنقید
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ وفاق انا کی وجہ سے یا پتہ نہیں کیوں یہ بات نہیں مان رہا، الیکشن میں ن لیگ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی پوری اونرشپ لے رہی تھی، اب یوٹرن لیا ہے تو ان سے پوچھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ترمیمی فنانس بل: سالانہ 6 لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والے افراد ٹیکس سے مستثنیٰ قرار
زرعی ایمرجنسی اور امدادی اقدامات
بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گندم کی امدادی قیمت کے لیے آئی ایم ایف سے بات کی جائے، سندھ میں گندم کے کاشتکاروں کو ہاری کارڈ کے ذریعے سپورٹ کریں گے تاکہ گندم درآمد نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ملک بھر میں زرعی شعبے مشکل میں رہے ہیں، سیلاب کے بعد زرعی شعبہ بہت متاثر ہوا، سیلاب کے بعد فوڈ سکیورٹی کے مسائل ہو سکتے ہیں، وزیراعظم سے درخواست کی تھی کہ زرعی اور موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کی جائے، وزیراعظم کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے زرعی ایمرجنسی نافذ کی اور متاثرین کے بجلی کے بل معاف کیے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتیوں نے احتجاج کرتے ہوئے سعودی عرب کا پرچم پیروں میں روند دیا، کلمہ کی توہین پوری مسلم دنیا میں شدید غصہ
وفاق کی ذمہ داری
ان کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت سپورٹ کرتی ہے تو مزید سہولت دے سکیں گے، اگر وفاقی حکومت یہ کر لے تو زرعی شعبے کو مزید فائدہ ہو گا، ٹیکس کی پالیسیوں پر بات چیت کی جائے تاکہ کسانوں کو ٹیکس ریلیف فراہم کیا جاسکے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ سیلاب کے اثرات اب بھی جاری ہیں، سیلاب سے پنجاب میں تاریخی نقصان ہوا، پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سیلاب متاثرین کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے، ملتان، لودھراں، بہاولپور میں آج بھی پانی ہے، قدرتی آفت میں معاونت کی ذمہ داری ایک حکومت کی نہیں، قدرتی آفت کی صورت میں وفاق صف اول کا کردار ادا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دھرنا ہو کر رہا تمام تر دعوؤں کے باوجود ہزاروں مظاہرین لاٹھی، گولی اور آنسو گیس کے شیلوں کی بارش کا مقابلہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس تک پہنچ گئے۔
عالمی سطح پر مطالبات
ان کا کہنا تھا کہ میں وفاق پر تنقید نہیں کر رہا، وفاق سے درخواست کر رہے ہیں کہ عالمی سطح پر بات کی جائے، مطالبات وفاقی حکومت سے ہی ہیں، وفاق کی ذمہ داری ہے وہ بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے لوگوں کی مدد کرے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے خلاف بیانات دینے والوں کو اس پروگرام کے بارے میں معلوم بھی نہیں ہو گا، مسلم لیگ نے پروگرام سے متعلق کوئی ترمیم یا ڈرافٹ نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں: شرح سود میں کمی کا امکان، فیصلہ 31 جولائی کو ہوگا
سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ
انہوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر سارے پاکستان نے سراہا، معاہدے سے متعلق ان کیمرا بریفنگ بھی ہو گی، ملک کو ایک ایکسپورٹر ملک بنا دیا گیا ہے۔
سیاسی سرگرمیاں
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا ہے کہ میرے کزن (ذوالفقار علی بھٹو جونیئر) کافی دیر سے سیاست میں متحرک ہیں، انہیں ویلکم کرتے ہیں، ہمیشہ سے ان کے لیے نیک خواہشات رکھی ہیں، میری یا میری بہنوں کی طرف سے ان کے خلاف کوئی بیان نہیں آیا。








