آئی ایم ایف کا گزشتہ مالی سال 12 ہزار 970 ارب روپے کا ٹیکس ہدف پورا نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار
پاکستان اور آئی ایم ایف کے اقتصادی مذاکرات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان دوسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات میں معاشی ٹیم نے ٹیکس محاصل اور مالی کارکردگی کا ڈیٹا شیئر کر دیا،جس پر آئی ایم ایف نے گزشتہ مالی سال کا ٹیکس ہدف پورا نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: سمگلنگ کی بڑی کوشش ناکام، 618 قیمتی موبائل فون اور 40 ڈیوائسز برآمد
ٹیکس ہدف اور خدشات
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان دوسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات ہوئے،آئی ایم ایف نے گزشتہ مالی سال 12 ہزار 970 ارب روپے کا ٹیکس ہدف پورا نہ ہونے پر تحفظات کا اظہارکیا ہے، مہنگائی میں نمایاں کمی، سست معاشی سرگرمیاں اور عدالتی مقدمات ہدف پورا نہ ہونے کی وجہ قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمرقید کے ملزم کی اپیل پر سماعت: جج سپریم کورٹ کا مدعی مقدمہ سے دلچسپ مکالمہ، کمرہ عدالت میں قہقہے
ایف بی آر کی کارکردگی
ایف بی آرحکام نے آئی ایم ایف حکام کو بریفنگ دی کہ 250 ارب سے زائد کے ٹیکس کیسز التواء کا شکار رہے، ایف بی آر نے 12.9 کھرب ہدف کے مقابلے میں 11.74 کھرب روپے اکٹھے کیے۔ ٹیکس تو جی ڈی پی شرح 10.5 فیصد کا ہدف نہ مل سکا، صرف 1.4 فیصد اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال اسٹیٹ بینک کے منافع اور پیٹرولیم لیوی کے باعث نان ٹیکس ریونیو میں نمایاں اضافہ رہا۔
یہ بھی پڑھیں: تنازع بات چیت سے حل ہوں تو اچھی بات ہے لیکن کسی دہشت گرد کا ہاتھ اگر معصوم کے خون سے رنگا ہوتو اسکی مذمت ہونی چاہیے،سرفراز بگٹی
سیکشن 3: چیلنجز اور رکاوٹیں
ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی سست روی سے نئے ٹیکس اقدامات سے کم ریونیو جمع ہوا، ٹیکس مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر سے 3.1 ٹریلین کا سہ ماہی ہدف بھی خطرے میں ہے، رواں مالی سال اب تک ہدف سے کم ٹیکس وصولی کی بڑی وجہ سیلاب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں گورننس کی بہتری کے لیے نئے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل وقت کی اشد ضرورت ہے، ظہور بلیدی
ٹیکس وصولی کے اہداف
حکام وزارت خزانہ کے مطابق سہہ ماہی ہدف پورا کرنے کیلئے یومیہ 140 ارب روپے ٹیکس جمع کرنا ہوگا۔ انکم ٹیکس فائلرز کی تعداد گزشتہ سال کی نسبت 70 لاکھ سے بڑھ کر 77 لاکھ تک جا پہنچی۔ حکومت نے 24 سال میں سب سے زیادہ 2.4 کھرب روپے پرائمری سرپلس حاصل کیا، مالی خسارہ جی ڈی پی کے 5.4 فیصد تک محدود، ہدف سے بہتر رہا۔
آئندہ کے منصوبے
سرپلس بجٹ کے حوالے سے صوبوں کا وعدہ پورا نہ ہو سکا، ہدف سے 280 ارب روپے کم جمع ہوا۔ وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کو این ایف سی کی تشکیل نو اور اب تک کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا، نئے این ایف سی کے حوالے سے صوبوں کی مشاورت سے جلد اجلاس بلانے کی یقین دہانی بھی کرادی۔








